1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

نگر نگر آکٹوپس بابا کی دھوم

فیفا کے ورلڈ کپ مقابلوں کے نتائج کی پیشین گوئی کرنے والے ’جرمن آکٹوپس پاؤل‘ کے چرچے اب ہر اس ملک میں ہونے لگے ہیں، جہاں فٹ بال کے شوقین موجود ہیں اور رواں مقابلے دیکھے جا رہے ہیں۔

default

پاؤل نامی اس ہشت پا نے اب تک ورلڈ کپ کے جتنے مقابلوں کے نتائج کی پیشین گوئیاں کیں، وہ درست ثابت ہوئیں۔ شائقین کے علاوہ اب بعض کھلاڑی اور سیاست دان بھی آکٹوپس پر یقین کرنے لگے ہیں۔ فائنل میں پہنچے والی ہسپانوی ٹیم کے مڈ فیلڈر زابی الونسو کے بقول یہ آکٹوپس ایک عجوبہ ہے۔

جرمن آکٹوپس نے سیمی فائنل میں اپنے ہی ملک کی شکست کی پیشین گوئی کی تھی، جو درست ثابت ہوئی۔ بعض مشتعل اور اداس جرمن شائقین تو یہ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ اس ’بدبخت‘ آکٹوپس کو سرعام بھُون کرکھا لیا جانا چاہئے۔ اگر پاکستان میں شائع ہونے والی بعض خبروں پر یقین کیا جائے تو وہاں بعض نجومیوں نے اپنا تعلق کسی نہ کسی طریقے سے ’آکٹوپس‘ بابا سے جوڑ کر اپنا کاروبار چمکانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

Flash-Galerie WM Fußball Weltmeisterschaft Deutschland Spanien Fans in Deutschland

بعض مشتعل اور اداس جرمن شائقین فٹبال آکٹوپس کو بھون کر کھانے کی باتیں کر رہے ہیں

ہسپانوی اور ڈچ شائقین بے تابی سے اب فائنل مقابلے سے متعلق آکٹوپس کی پیشین گوئی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جرمن شہر اوبر ہاؤزن کے اکویریم میں موجود یہ آکٹوپس پہلے انگلینڈ میں رہا کرتا تھا۔ دنیا بھر کے ممتاز ٹیلی وژن چینلز اور اخبارات میں ’آکٹوپس بابا‘ کے چرچے ہیں تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ اِس کی پیشین گوئیاں ہمیشہ ہی درست ثابت ہوئی ہوں۔ دو ہزار آٹھ میں ہونے والی یورپی چیمپئن شپ کے فائنل میں بین الاقوامی سطح پر مشہور ’آکٹوپس بابا‘ نے جرمنی کے حق میں فیصلہ دیا تھا لیکن اس میچ میں سپین کوکامیابی حاصل ہوئی تھی۔

اب ’آکٹوپس بابا‘ پہلے تیسری پوزیشن کے لئے ہونے والے میچ کی پیشین گوئی کرے گا۔ اس میچ میں جرمن ٹیم کا یوروگوائے سے مقابلہ ہے۔ ہسپانوی وزیرا عظم لوئیس روڈریگیز ساپاتیرو نے جرمنی کی شکست کے بعد از راہِ مذاق کہا تھاکہ وہ آکٹوپس کی سلامتی کے لئے باڈی گارڈز روانہ کریں گے۔ اِس آکٹوپس کو مشتعل شائقین کی دست بُرد سے بچانے کے لئے اکویریم میں انتظامات سخت کر دئے گئے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM