1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نکسل باغیوں نے جنگ مسلط کردی ہے: پی چدم برم

بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم نے کہا ہے کہ نکسل باغیوں نے حکومت پر جنگ مسلط کر دی ہے۔ چدم برم کے مطابق جمہوریت کو بچانے کے لئے مسلح ماوٴ نواز باغیوں کے خلاف مہم کے دوران احتیاط برتنا ہوگی اور جلد بازی سے پرہیز کرنا ہوگا۔

default

بھارت کے وفاقی وزیر داخلہ نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز ریاست چھتیس گڑھ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

Indiens Rote Armee

ماوٴ نواز باغی ایک تربیتی کیمپ میں

مسلح نکسلیوں نے منگل کو بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دانتے واڈا میں نیم فوجی سینٹرل ریزرو پولیس فورس CRPF پر حملے کرکے 75 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

چدم برم نے نامہ نگاروں سے کہا کہ باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کرنے سے پہلے حکومتی مینڈیٹ میں کچھ تبدیلیاں مطلوب ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاستی پولیس اور ’سی آر پی ایف‘ باغیوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ پی چدم برم نے فی الحال فوجی مداخلت کے امکان کو رد کیا، لیکن انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر مینڈیٹ میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔

Indien Bürgerkrieg Paramilitärs Naxalites

نکسل باغی بھارت کی بیس ریاستوں میں موجود ہیں

بھارت میں بعض حلقوں کی جانب سے نکسل باغیوں کے خلاف وفاقی حکومت کی موجودہ پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ نئی دہلی میں مقیم دفاعی تجزیہ نگار راہُل بیدی بھی حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ بیدی نے ڈوئچے ویلے اُردو سروس سے بات چیت میں کہا کہ ’’مسلح ماوٴ نوازوں سے نمٹنے کے حوالے سے بھارتی حکومت کی موجودہ پالیسی کمزور ہے۔‘‘ ’’نکسل باغیوں کے خلاف آپریشن کی کامیابی کے لئے سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور مقامی پولیس کے درمیان بہتر تعاون اور رابطوں‍ کی ضرورت ہے۔ مقامی پولیس کو نکسل متاثرہ علاقوں کی جغرافیہ اور وہاں کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ سرکار کی موجودہ پالیسی تب تک کامیاب نہیں ہوگی جب تک کہ مقامی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے مابین بہتر تال میل نہ ہو۔‘‘

ماوٴ نواز باغیوں نے منگل کی صبح ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دانتے واڈا میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس 'سی آر پی ایف‘ پر گھات لگاکر کئی حملے کئے۔ بھارتی داخلہ سیکریٹری اور سی آر پی ایف کے ترجمان نے باغیوں کی جانب سے ان شدید حملوں میں 75 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

INS Arihant

بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ

بھارت کے وفاقی وزیر داخلہ پی چدم برم نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے باغیوں سے کہا تھاکہ وہ ہتھیار چھوڑ کر بات چیت پر آمادہ ہوں۔ پی چدم برم نےکہا ہے کہ اس واقعے سے ماؤ نوازوں کی ''وحشی ذہنیت‘‘ کا اندازہ ہوتا ہے۔

دفاعی تجزیہ نگار راُہل بیدی کے مطابق نکسلیوں کے خلاف بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے متاثرہ علاقوں میں ترقی کرنا بہت ضروری ہے۔ مسٹر بیدی کہتے ہیں کہ مقامی پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، انہیں جدید ہتھیاروں کی فراہمی اور بہتر تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ بیدی مزید کہتے ہیں کہ مسئلے کے حل کے لئے دو محاذوں پر لڑنا ہوگا۔’’اس وقت ماوٴ نواز باغی بھارت کی اٹھائیس ریاستوں میں سے تقریباً بیس میں موجود ہیں۔ 625 اضلاع میں سے 250 میں نکسل باغی سرگرم ہیں جبکہ تقریباً 100میں انہیں مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ ان اضلاع میں ماوٴنوازوں کی ہی رٹ قائم ہے۔‘‘

بھارتی پولیس ذرائع کے مطابق بھاری اسلحہ سے لیس نکسل باغیوں نے ضلع دانتے واڈا کے گھنے جنگلات میں گشت پرمامور بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس 'سی آر پی ایف‘ کی ایک گاڑی کو پہلے بم سے اڑایا اور پھر فائرنگ بھی شروع کر دی۔ پولیس حکام نے ہلاک شدگان کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

ماوٴ نوازوں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین گزشتہ بیس برسوں سے جاری لڑائی میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

بھارتی حکومت نے کئی ریاستوں میں ماوٴ نوازوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نکسلیوں کی پر تشدد کارروائیوں کو ملک کی داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت:

DW.COM

Audios and videos on the topic