1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نيٹو طياروں کے بريقہ پر حملے

ليبيا کے حکام نے صحافيوں کو کمپاؤنڈ پر نيٹو کے تازہ فضائی حملے کی جگہ دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے ميں تين افراد ہلاک اور25 زخمی ہوگئے۔

معمر قذافی

معمر قذافی

ليبيا کے حکومتی ترجمان موسیٰ ابراہيم نے کہا کہ نيٹو کی بمباری ايک ايسی جگہ کے قريب کی گئی، جہاں بہت سے لوگ رات کو آتے اور قذافی کی حمايت ميں نعرے لگاتے ہيں۔ ان ميں سے بعض کے ہمراہ اُن کے بيوی بچے بھی ہوتے ہيں۔ موسیٰ ابراہيم نے اس کی ترديد کی کہ کمپاؤنڈ ميں کسی قسم کی فوجی تنصيبات تھيں۔ اُنہوں نے صحافيوں کو بمباری سے پڑ جانے والے ايک گڑھے کے قريب ايک چھوٹا سا پارک دکھايا، جس ميں بچے کھيل کود ميں مصروف تھے۔ موسیٰ ابراہيم نے کہا: ’’نيٹو اتحاد اخلاق سے بالکل عاری ہے۔‘‘

نيٹو ہيڈ کوارٹرز ميں ايک افسر نے کہا کہ نيٹو نے جس ہدف کو نشانہ بنايا وہ بنکرز پر مشتمل ايک بڑا کنٹرول اينڈ کمانڈ سينٹر تھا۔

ليبيا کے باغيوں کا کہنا ہے کہ نيٹو کے فضائی حملوں کی مدد سے اُنہيں اس ہفتے جنگ زدہ شہر مصراتہ کے ائر پورٹ پر قبضہ کرنے ميں کاميابی ہوئی جو کہ اُن کے ليے ايک عظيم کاميابی ہے۔ ليکن اس کے باوجود جنگ ميں ابھی تک جمود کی کيفيت ہے اور باغيوں کو معمولی کاميابی ہورہی ہے۔ ليکن باغی يہ بھی کہہ چکے ہيں کہ مغربی ممالک کو سيٹيلائٹ فونز جيسا سامان مہيا کرنے سے بڑھ کر اسلحہ اور رائفليں باغيوں کو دينے کا سلسلہ شروع کرنا چاہيے۔

اُدھر ليبيا کے ٹيلی وژن نے اس ہفتے معمر قذافی کی تصاوير دکھائی ہيں، جن سے اُن کے زندہ ہونے کے بارے ميں شکوک ختم ہو گئے ہيں۔ نيٹو کے ايک فضائی حملے ميں اپنے سب سے چھوٹے بيٹے کی ہلاکت کے بعد قذافی دو ہفتے سے ٹيلی وژن پر دکھائی نہيں ديے تھے۔

نيٹو کی بمباری کے بعد طرابلس کی ايک سرکاری عمارت

نيٹو کی بمباری کے بعد طرابلس کی ايک سرکاری عمارت

آج نيٹو کے طياروں نے مشرقی ليبيا کے شہر بريقہ پر حملہ کيا۔ سرکاری ٹيلی وژن کے مطابق اس حملے ميں کئی شہری ہلاک ہو گئے۔ اُس نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 16اور زخميوں کی تعداد 40 تک بتائی ہے۔ اُس کی نشر کردہ تصاوير ميں بہت سے زخموں سے چھلنی کئی اجسام کو ايک نا معلوم مقام پر دکھايا گيا، جو کمبلوں ميں لپٹے ہوئے تھے۔ غير جانبدار ذرائع سے اس کی فوری تصديق ممکن نہيں تھی۔

اُدھر ليبيا کے باغيوں کے نمائندے آج جمعہ کو واشنگٹن ميں امريکی حکام سے ملاقات کررہے ہيں، جس ميں وہ قذافی کی حکومت کے خاتمے کی لڑائی ميں نقد رقم اور سفارتی اعانت کا مطالبہ کريں گے۔ باغيوں کی کونسل کے انتظامی دفتر کے سربراہ، امريکہ کے تعليم يا فتہ محمود جبريل صدر اوباما کے قومی سلامتی کے مشير اور دوسرے اعلیٰ حکام سے ملاقاتيں کريں گے۔ جبريل نے واشنگٹن سے اپيل کی ہے کہ وہ قذافی کی منجمد کر دی جانے والی رقوم ميں سے تقريباً 180 ملين ڈالر اُنہيں مہيا کرے۔

قذافی حکومت کا کہنا ہے کہ باغی مسلح مجرم اور القاعدہ کے عسکريت پسند ہيں۔ اُس نے نيٹو کی مداخلت کو نو آبادياتی جارحيت قرار ديا۔

مصراتہ ميں لڑنے والے باغی

مصراتہ ميں لڑنے والے باغی

روس نے، جو نيٹو کے مشن پر تنقيد کررہا ہے، آج جمعہ کو باغيوں اور ليبيا کی حکومت ميں بات چيت کا مطالبہ کيا۔ روس نے يہ بھی کہا کہ يہ فيصلہ کرنے کا اختيارسلامتی کونسل کو ہے کہ قذافی کے منجمد سرمائے کو کس طرح تقسيم کيا جائے۔ اُس نے کہا کہ اس سرمائے کو کسی بھی فريق کو مسلح کرنے کے ليے استعمال نہيں کيا جانا چاہيے۔

باغيوں کا کہنا ہے کہ اُنہيں تنخواہوں کی ادائيگی اور اپنے علاقوں کے انتظام کے ليے رقم کی ضرورت ہے اور وہ چاہتے ہيں کہ انہيں بين الاقوامی طور پر تسليم کر ليا جائے تاکہ وہ ليبيا کی منجمد رقوم تک رسائی حاصل کر سکيں۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM