1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’نيم مردہ حالت‘

الجزائر کے جنوب مشرق کے صحرائی علاقے میں مردوں کے ساتھ ساتھ بہت سی تنہا يا بيوہ خواتين بھی گذر بسر کے لئے ملازمت کرتی ہیں۔ تاہم مقامی مرد اکثر نے خواتین پر باقاعدہ حملے کر کہ انہیں تشدد بناتے ہیں۔

default

الجزائر کے جنوب مشرق کے صحرائی علاقے ميں سن 1950 کے عشرے ميں تيل کی دريافت کے بعد سے شمالی الجزائر کے بہت سے لوگ ملازمت کی تلاش ميں يہاں آئے کيونک يہاں وہ نسبتاٍ بہتر اجرتوں پر کام کرسکتے ہيں۔ ان ميں ايسی بہت سی تنہا يا بيوہ خواتين بھی ہيں جو گذر بسر کے لئے ملازمت کرنے پر مجبور ہيں۔ تاہم مقامی مردوں نے ان خواتين کو کئی بار تشدد کا نشانہ بنايا ہے۔

الجزائر کے جنوبی صحرا ميں معدنی تيل کی دريافت کے بعد سے يہاں کے چھوٹے سے گاؤں حسّی مسعود کی آبادی 1500سے بڑھ کر 50 ہزار ہوگئی ہے اور اب یہ ايک شہر بن گيا ہے۔ يہاں آنے والی خواتين زيادہ تر صفائی کرنے اور کھانا پکانے کی ملازمتيں کرتی ہيں۔ تيل کی صنعت کی وجہ سے اُنہیں يہاں نسبتاً بہتراجرتيں مل جاتی ہيں۔ تاہم، يہ ايک قدامت پسند معاشرہ ہے جس ميں عورتيں، ملازمت توکجا گھر سے باہر بھی بہت کم ہی نکلتی ہيں۔ اس لئے، اپنی اور اپنے بچوں کی گذر بسر کے لئے کام کرنے والی يہ بيوہ يا تنہا خواتين يہاں بہت سے لوگوں کو بہت گراں گذرتی ہيں۔

Zentrum der algerischen Erdölindustrie in Hassi Messaoud

حسّی مسعود کا شمار الجزائر کی مشہور ترین آئل فیلڈ میں ہوتا ہے

13 جولائی سن 2001 ء کے دن ايک امام مسجد کی اشتعال انگيز تقرير کے بعدمقامی مردوں نے ان عورتوں پرباقاعدہ حملے کئے جن ميں اُنہيں مارا پيٹا گيا اورعصمت دری کے واقعات بھی پيش آئے۔ اس رات جن عورتوں کو زيادتيوں کا نشانہ بنايا گيا اُن ميں فاطمہ معمورہ بھی شامل تھيں۔ اُنہوں نے بتايا " اُنہوں نے مجھے گھيرے ميں لے ليا اور پھر گھونسوں اور لاتوں سے مجھے خوب مارا پيٹا گيا۔"

اس کے بعد فاتحہ کی حالت اتنی بُری تھی کہ انہيں مردہ سمجھھ کردفن کرنے تک کی کوشش کی گئی۔ حسّی مسعود ميں برپا ہونے والے اس تشدد کی شکارہونے والی کم از کم 39 خواتين ميں سے صرف فاتحہ اوررحمونا ہی کی يہ کوشش ہے کہ اُن پر جو بيتی وہ فراموش نہ ہونے پائے۔ فروری کے شروع ميں فرانس ميں اُن کی ايک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے’نيم مردہ حالت‘

انسانی حقوق کی کارکن شريفہ خيدّار نے سن 2001 ميں حسّی مسعود کی متاثرہ خواتين کی امداد کے لئے ايک تنظيم قائم کی۔

Symbolbild Pipeline in Algerien

الجزائر کے صحرائی علاقے ميں سن 1950 کے عشرے ميں تيل دريافت ہوا تھا

شريفہ نے کہا" خواتين پرحملہ کرنے والے تقريباً 100 مردوں ميں سے صرف دو درجن کو سزا سنائی گئی۔ حسّی مسعود کے حکام نےخواتين کو صلح پرآمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ہميشہ يہی ہوتا ہے کہ کمزوروں کو معاف کرنے کی ترغيب دی جاتی ہے ليکن مجرموں کو اپنے کرتوتوں کی سزا نہيں ملتی۔ اس وجہ سے وہ اپنے جرائم جاری رکھتے ہيں۔ "

اس سال اپريل ميں الجزائر کے روزنامے الوطن کی رپورٹر سليمہ کی ايک خبر شائع ہوئی جس ميں حسّی مسعود کی تنہا خواتين پر نئے حملوں کا انکشاف کيا گیا ہے۔

رپورٹ : شہاب احمد صدیقی

ادارت : عدنان اسحاق