1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نيتن ياہو کی عبوری سمجھوتے کی تجويز، فلسطينيوں کا انکار

اسرائيلی وزير اعظم بینجمن نيتن ياہو نے پہلی بار اس امکان کا ذکر کيا ہے کہ فلسطينيوں کے ساتھ کوئی مستقل سمجھوتہ طے نہ پا سکنے کی صورت ميں ايک عبوری معاہدہ کيا جا سکتا ہے، جس ميں بڑے اختلافات کو دور ہی رکھا گيا ہو۔

اسرائيلی وزير اعظم بینجمن نيتن ياہو نے کہا ہے کہ اگر فلسطينيوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران اہم مسائل پر کوئی سمجھوتہ طے نہيں پاتا، تو پھر ايک عبوری سمجھوتے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ يہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے اس امکان کا ذکر کيا ہے۔ جب اُن سے اُن کے وزير خارجہ اويگدور ليبرمن کے اس بيان کے بارے ميں پوچھا گيا کہ بہترين حل يہ ہے کہ فلسطينيوں سے لمبی مدت کا ايک عبوری معاہدہ طے کر ليا جائے کيونکہ ايک مستقل سمجھوتہ ممکن نہيں، تو نيتن ياہو نے کہا کہ اگر يروشلم اور فلسطينی مہاجرين کی واپسی کے بارے ميں بات چيت ناکام ہو گئی تو پھر ايک عبوری معاہدہ ممکن ہے۔

NO FLASH Nahost Friedensgespräche in Washington

فلسطينی صدر عباس،امريکی وزير خارجہ کلنٹن اور نيتن ياہو

اسرائيل اور فلسطينيوں کے درميان امريکہ کی وساطت سے ہونے والے مذاکرات اُس وقت سے تعطل کا شکار ہيں، جب اسرائيل نے دريائے اردن کے مغربی کنارے پر يہودی بستيوں کی تعمير پر عارضی بندش کی مدت ميں توسيع سے انکار کرديا تھا۔

نيتن ياہو نے کہا کہ وہ يہ جانتے ہيں کہ فلسطينی ايک عبوری يا عارضی سمجھوتے کے لئے بات چيت پر راضی نہيں ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا، ’اگر ہم نے فلسطينيوں سے پہلے ہی سے يہ کہہ ديا کہ آئيں، عبوری سمجھوتے پر بات کرتے ہيں تو يہ نہيں کہا جا سکتا کہ وہ اس پر راضی ہو جائيں گے، ليکن ايک سفارتی کوشش کے نتيجے ميں ايسا ممکن ہے۔‘ نيتن ياہو نے يہ بھی کہا کہ اگر فلسطينی اسرائيل کو ايک يہودی رياست کے طور پر تسليم کر ليں تو وہ اپنی مخلوط حکومت ميں شامل حليفوں کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغير ايک امن معاہدے کے حصول کے لئے سب کچھ کرنے پر تيار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسے اسرائيلی عوام کے سامنے پيش کريں گے اور عوام کی اکثريت اس کی حمايت کرے گی

Historische Nahostgespräche Israelische Siedlung im Westjordanland NO FLASH

يروشلم کے مضافات ميں ايک يہودی بستی

فلسطينی صدر محمود عباس کے ايک ترجمان نے عبوری سمجھوتے کو قطعی طور پر رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ يروشلم اور فلسطينی مہاجرين کی واپسی کے مسائل کا حل کيا جانا ضروری ہے اور اسے بعد کے کسی مرحلے تک مؤخر نہيں کيا جا سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ يہ عبوری حل فلسطينيوں کے لئے ناقابل قبول ہے کيونکہ اس ميں يروشلم اور مہاجرين دو اہم مسائل کوشامل نہيں کيا جائے گا۔ يروشلم انتہائی اہم ہے کيونکہ اسے مستقبل کی فلسطينی رياست کا دارالحکومت بنناہے۔ صدر محمود عباس کے ترجمان نے يہ بھی کہا کہ فلسطينی رياست کے بارے ميں ايسے مذاکرات ميں شرکت نہيں کی جا سکتی، جن ميں اس رياست کی سرحدوں ہی کا تعين نہ کيا جائے۔

واشنگٹن ميں امريکی وزارت خارجہ کے ايک ترجمان نے نيتن ياہو کے بيان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امريکہ تمام بنيادی مسائل پراسرائيل اور فلسطينيوں کے درميان سمجھوتہ کرانے کی بھر پور کوششيں جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس