1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

'نو ون کِلڈ جیسیکا' فیشن ماڈل کے اصل قتل پر فلم

بالی وُڈ کی اس فلم میں ایک فیشن ماڈل کے اصل قتل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ایک معروف بھارتی قانون ساز کے بیٹے کے ہاتھوں ہونے والے قتل کی اس کہانی میں پولیس اور سیاست دانوں کے گٹھ جوڑ کو آشکار کیا گیا ہے۔

default

'نو ون کلڈ جیسیکا' دراصل جیسیکا لال نامی اس فیشن ماڈل کے قتل اور پھر اس کے بعد اس سلسلے میں حصول انصاف کی کوششوں کی کہانی ہے۔ جیسیکا لال نئی دہلی کے ایک معروف ریستوران کے بار میں بھی کام کرتی تھیں۔ 1999ء میں اُسے مبینہ طور پر ایک گاہک کو ڈرنک پیش کرنے سے انکار پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

Vidya Balan

بھارتی اداکارہ ودیا بالن فلم میں جیسیکا لال کی بہن کا کردار ادا کررہی ہیں

اس قتل کا اہم ملزم مَنوشرما ایک سابق حکومتی وزیر ونود شرما کا بیٹا ہے۔ کئی عینی شاہدین کی طرف سے اپنے سابقہ مؤقف سے پِھر جانے کے باعث منوشرما کو سات برس بعد اس کیس سے خارج کردیا گیا تھا۔

اس فیصلے پر نہ صرف عوامی سطح پر شدید احتجاج کیا گیا بلکہ میڈیا کی طرف سے بھی انصاف کے حصول کےلیے مہم چلائی گئی، جس پر منوشرما کے خلاف دوبارہ سماعت شروع ہوئی جو قتل کی پاداش میں شرما کی عمرقید پر منتج ہوئی۔

Indische Schauspielerin Rani Mukherjee

رانی مکھرجی نے فلم میں وکیل کا کردار ادا کیا ہے

بھارت میں جہاں اُمراء اپنے طرز پر زندگی گزارنے کے عادی سمجھے جاتے ہیں اور جہاں ایسے افراد خود کو قانون سے مبرا سمجھتے ہیں، اس مقدمے اور اس کے فیصلے کو ایک اہم موڑ قرار دیا گیا۔

بالی وڈ کی اس نئی فلم کے ڈائریکٹر راج کمار گپتا کا کہنا ہے کہ یہ فلم دراصل ایک طرح کی یاد دہانی ہے کہ بھارتی عوام بھی ایک طاقت ہیں جو بدعنوان اُمراء کے خلاف ڈٹ سکتے ہیں۔

جمعہ سات دسمبر کو ریلیز ہونے والی اس فلم میں رانی مکھرجی کو ایک صحافی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو کہ ماڈل کی بہن سبرینا، جس کا رول ودیا بالن نے ادا کیا ہے، کے ساتھ مل کر ایک مہم چلاتی ہے اور اس نتیجے میں ذیلی عدالت کا فیصلہ بالآخر تبدیل کردیا جاتا ہے۔

گزشتہ برس اپریل میں بھارتی سپریم کورٹ نے منو شرما اور اس کے دو ساتھیوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کی تھی۔ شرما کے ساتھیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے نہ صرف شرما کو فرار ہونے میں مدد دی بلکہ اس قتل کے اہم شواہد بھی ضائع کردیے۔

اس فیصلے کے بعد قتل ہونے والی فیشن ماڈل کی بہن سبرینا لال کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات جن میں اُمراء یا مشہور لوگ ملوث ہوتے ہیں، ہر ایک کے لیے اہم پیغام یہ ہے کہ اگر کوشش کی جائے تو انصاف کا حصول ممکن ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM