1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نو منتخب افغان پارلیمان کا افتتاحی اجلاس مؤخر

افغان صدر حامد کرزئی نے نو منتخب پارلیمان کا افتتاحی اجلاس ایک ماہ کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ اس تاخیر کا مقصد گزشتہ برس کے انتخابات میں دھاندلیوں کے مبینہ الزامات کی جانچ پڑتال کے لیے مناسب وقت فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔

default

افغان پارلیمانی انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلیوں کے لئے تشکیل دیے گئے خصوصی ٹریبیونل نے صدر کرزئی سے درخواست کی تھی کہ وہ نومنتخب پارلیمان کا افتتاحی اجلاس ایک ماہ کے لئے مؤخر کر دیں تاکہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کر سکیں۔ ٹریبیونل کے سربراہ اور جج صدیق اللہ حقیق نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم ستمبر میں منعقدہ انتخابات کے دوران موصول ہونے والی 430 شکایات کی چھان بین کر رہی ہے، اور انہیں اس حوالے سے جامع تحقیق کے لئے مزید وقت درکار ہو گا۔

اس درخواست کے موصول ہونے کے بعد صدر کرزئی نے کہا ہے کہ اب پارلیمان کا افتتاحی اجلاس تیئس جنوری کے بجائے بائیس فروری کو بلایا جائے گا۔ افغان صدارتی محل سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فروری کے بعد مبینہ دھاندلیوں کی جانچ پڑتال کے لئے ٹریبیونل کو مزید وقت فراہم نہیں کیا جائے گا۔ حقیق نے بتایا ہے کہ ملک بھر سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ صدارتی انتخابات کے دوران فراڈ ہوا ہے۔

Hamid Karzai PK in Kabul

افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ ماہ ہی یہ ٹریبیونل قائم کیا تھا کہ تاکہ فراڈ کے الزامات کے بعد ان کی خراب ہوتی ساکھ کو بحال کیا جا سکے۔ ان انتخابات کے بعد شکست خوردہ امیدواروں نے الیکشن کمیشن پر دھاندلی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے از سر نو انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس دوران افغان اٹارنی جنرل نے بھی ان انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری طرف ایسے خدشات بھی موجود ہیں کہ انتخابات میں ہار جانے والے امیدوار اس ٹریبیونل کے فیصلے کو تسلیم کریں گے یا نہیں۔ کیونکہ افغان سیاسی پارٹیاں اور آزاد امیدواروں نے اس ٹریبیونل کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر رکھا ہے۔ صدر کرزئی پر الزامات عائد کیے جا رہے کہ وہ صدارتی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنے کے بعد ایک فرمانبردار پارلیمان کی خواہش رکھتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس