1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’نو سال کی بچی جسمانی و ذہنی لحاظ سے شادی کے لیے تیار‘  

ملائیشیا میں، جہاں گزشتہ منگل کو بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا ایک نیا قانون منظور ہوا ہے، ایک سیاستدان کے اس بیان پر ہنگامہ بپا ہے کہ ’نو سال کی عمر میں بچیاں جسمانی و ذہنی لحاظ سے شادی کے لیے تیار‘ ہوتی ہیں۔

گزشتہ منگل کے روز ملائیشیا کی پارلیمان نے ’سیکسوئل افینسز اگینسٹ چلڈرن بِل 2017ء‘ منظور کیا، جو اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن اس میں بچوں کی کم عمری میں شادی کو خلافِ قانون قرار نہیں دیا گیا۔ واضح رہے کہ ملائیشیا میں اُنیس سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

نیا قانون بچوں کی طرف جنسی رغبت اوراُن کے ساتھ جنسی روابط کو ایک قابلِ تعزیر جرم قرار دیتا ہے۔ ساتھ ساتھ اس کے دائرہٴ کار کو بھی بڑھا دیا گیا ہے یعنی اب یہ قانون ملائیشیا کے بچوں کو نہ صرف ملکی اور غیر ملکی مجرموں کی زَد سے بچائے گا بلکہ  ملائیشیا کے وہ شہری بھی اس قانون کے دائرے میں آئیں گے، جنہوں نے ملک سے باہر بھی اس طرح کے جرائم کیے ہوں گے۔

اپوزیشن کے ایک رکنِ پارلیمان نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ کم عمری کی شادیوں کو خلافِ قانون قرار دے دیا جائے تاہم اکثریتی ارکان نے اس تجویز کو رَد کر دیا۔ یُوں مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا میں کم عمری کی شادی کو خلافِ قانون قرار دینے کی یہ کوشش ناکام رہی۔ اُلٹا حکمران جماعت باریسان نیشنل کولیشن سے تعلق رکھنے والے ایک رکنِ پارلیمان شہاب الدین یحییٰ نے یہ کہہ کر ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ لڑکیاں ’نو یا بارہ سال کی عمر میں بلوغت کو پہنچ جاتی ہیں اور اس عمر میں ہی وہ کسی اٹھارہ سالہ کی طرح دکھائی دینے لگتی ہیں، ایسے میں جسمانی یا ذہنی طور پر یہ عمر شادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے‘۔

شہاب الدین شرعی عدالت کے ایک سابق جج ہیں۔ اُنہوں نے اِسی پر بس نہیں کی بلکہ ملائیشیا کے باشندوں کو اپنے اس بیان سے مزید اشتعال دلا دیا کہ اگر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی کوئی خاتون متعلقہ مرد کے ساتھ شادی کر لے تو اس میں ’کچھ بھی غلط نہیں‘ ہے کیونکہ اس طرح اُس خاتون کا ’مستقبل تاریک‘ ہونے سے بچ جائے گا۔

ایک ساتھ مختلف قوانین

ملائیشیا میں لڑکیوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر سولہ سال جبکہ لڑکوں کے لیے اٹھارہ سال ہے تاہم والدین یا شرعی عدالتوں کی اجازت سے سولہ سال سے کم عمر لڑکیاں بھی شادی کر سکتی ہیں۔ غیر مسلم لڑکیوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ برس ہے۔

حقوقِ انسانی کے علمبردار گروپ، جن میں حقوقِ نسواں کے لیے سرگرم اسلامی گروپ بھی شامل ہیں، جنسی اور مذہبی امتیاز کے بغیر شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ برس کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور یوں 2001ء کے اُس ’چائلڈ ایکٹ‘ کا حوالہ دے رہے ہیں، جس میں ’بچہ‘ اُسے کہا گیا ہے،  جس کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہو۔

جنسی زیادتی کرنے والوں کے لیے راہِ فرار؟

مارچ میں شرعی عدالت کے ایک جج نے تجویز کیا کہ اگر کوئی نابالغ لڑکی کسی ممنوعہ جنسی تعلق کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی ہے تو اُس کے لیے بہترین حل یہ ہے کہ وہ اُس شخص سے شادی کر لے، بشرطیکہ دونوں فریق اس کے لیے رضامند ہوں۔

صنفی مساوات سے متعلق جوائنٹ ایکشن گروپ نے اس پر فوری طور پر صدائے احتجاج بلند کی اور کہا کہ ایسا کرنا اس طرح کے جنسی حملوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور ایسے حملے کرنے والوں کو بچنے کا راستہ فراہم کرنے کے مترادف ہو گا۔

2016ء میں ایک عدالت نے ایک چودہ سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے ایک اکیس سالہ نوجوان کے خلاف الزامات ختم کر دیے تھے، جب جج کو یہ بتایا گیا تھا کہ لڑکا اور لڑکی شرعی عدالت کے ایک جج سے شادی کی اجازت حاصل کر چکے ہیں۔

تب استغاثہ کے ایک جج نے کہا تھا کہ ’شادی کرنے سے جرم ختم نہیں ہو جاتا‘ اور تب عوامی احتجاج کے بعد ایک اعلیٰ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ اس نوجوان کو مقدمے کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔