1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’نو اینجلز‘ کی نادیہ فرشتہ صفت نہیں

جرمنی کے گرل بینڈ ’نو اینجلز‘ کی گلوکارہ نادیہ بےنیسا کو ایڈز وائرس پھیلانےسے متعلق ایک مقدمے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے کئے پر افسوس ہے تاہم وہ یہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کا ساتھی بھی اس مرض میں مبتلا ہو۔

default

نادیہ بےنیسا کو اپنے کئے پر افسوس ہے

نادیہ بےنیسا ایچ آئی وی پوزیٹو ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایڈز کا باعث بننے والے اس وائرس کا شکار ہونے کے باوجود اپنے بوائے فرینڈ کو اس بارے میں نہیں بتایا تھا اور بغیر کوئی حفاظتی تدابیر اختیار کئے اس کے ساتھ جنسی تعلقات بھی قائم رکھے۔ اٹھائیس سالہ نادیہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے ساتھی کو بھی ایڈز ہو جائے۔ قانونی طور پر نادیہ کے خلاف ’جسمانی طور پر خطرناک نقصان پہنچانے‘ کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ وکیل استغاثہ کے مطابق نادیہ کو 1999ء میں یہ علم ہو گیا تھا کہ وہ ایڈز کا باعث بننے والے وائرس کا شکار ہو چکی ہیں تاہم انہوں نے اس کے باوجود یہ بات اپنے ’پارٹنرز‘ سے پوشیدہ رکھی اور اس دوران انہوں نے پانچ مردوں سے جنسی تعلقات قائم کئے۔

2004ء میں غیر محفوظ جنسی تعلقات کی وجہ سے انہی میں سے ایک مرد ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہو گیا تھا، جس کے بعد اس نے 2008ء میں نادیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔ اس شخص نے عدالت کو بتایا کہ 2007ء میں نادیہ کے ایڈز وائرس میں مبتلا ہونے کے بارے میں اس کی ایک رشتہ دار نے اسے بتایا تھا، جس کے بعد مدعی نے اپنا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کرایا۔ اس نے مزید بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ایڈز کا وائرس جسم میں موجود رہتا ہے اور وہ کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے بھی اس کی تصدیق کرتے کرتے ایک سال لگ گیا۔

Eurovision Song Contest No Angels für Deutschland

’نو اینجلز‘ کا شمار جرمنی کے مشہور ترین گرل بینڈ میں ہوتا ہے

اس 34 سالہ مدعی نے مزید بتایا کہ اس کی زندگی تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے اس کی آمدنی بھی نصف ہو چکی ہے۔ اس نے کہا کہ’ نو اینجلز‘ کی انتظامیہ نے اسے خاموش رکھنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے مزید بتایا کہ اس نے نادیہ کو یہ پیشکش بھی کی تھی کہ اگر وہ سب کے سامنے یہ اعتراف کرے کہ وہ ایڈز وائرس کا شکار ہو چکی ہے اور اس سے متاثرہ افراد کے لئے ایک لاکھ یورو کی امداد دینے پر تیار ہے،تو وہ اس کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کرے گا۔

نادیہ کو11 اپریل 2009ء کو شہر فرینکفرٹ کے ایک ڈسکو میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ وہاں پرفارمنس کے لئے موجود تھیں۔ اس کے بعد وہ دس روز تک پولیس کی حراست میں رہیں۔ ان پر چلنےوالے مقدمے کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جرمنی میں ایڈز کے مریضوں کی مدد کرنے والی ایک تنظیم کا موقف ہے کہ یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات رکھنے کی تمام تر ذمہ داری صرف نادیہ پر عائد کی جائے۔ نادیہ کے خلاف مقدمے کا فیصلہ پانچ پیشیوں کے بعد 26 اگست کو سنائے جانے کی امید ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس