1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نون لیگ کے ثنااللہ زہری کی بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزدگی

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں مری معاہدے کی روشنی میں اپنی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ثنااللہ زہری کو بلوچستان کا نیا وزیر اعلٰی نامزد کر دیا۔

ثنااللہ زہری کی نامزدگی وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلٰی سطحی اجلاس میں عمل میں آئی۔ اس اجلاس میں بلوچستان کے موجودہ وزیر اعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک کے علاوہ حکومت کے اتحادی پشتون رہنما محمود خان اچکزئی، وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے بھی شرکت کی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے امید ظاہر کی کہ ثنااللہ زہری بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائیں گے۔ سردار ثنااللہ زہری، جو اس وقت بلوچستان کی صوبائی حکومت میں سینئیر وزیر ہیں، موجودہ وزیر اعلٰی عبدالمالک بلوچ کی جگہ یہ عہدہ سنبھالیں گے۔

بلوچستان میں پاکستان کے ڈان میڈیا گروپ سے وابستہ سینیئر صحافی سید علی شاہ کا کہنا ہے کہ ثنااللہ زہری کو بھی اپنے پیشرو کی طرح درپیش سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کے قیام کا ہی ہو گا۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ڈاکٹر مالک نے بلوچستان میں گورننس بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو ایک مسئلہ یہ بھی درپیش رہا کہ ان کی کابینہ میں بہت سے طاقتور بلوچ سردار یا بااثر سیاسی شخصیات شامل تھیں، جو اپنے کام یا صوبائی وزارتوں میں کسی کو مداخلت نہیں کرنے دیتے تھے۔ اس کی وجہ سے ڈاکٹر مالک شاید بہت اچھی حکومت کاری تو نہ دے سکے لیکن انہوں نے کوشش بہرحال کی۔‘‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں منتخب صوبائی حکومتیں تو قائم ہوتی رہی ہیں لیکن وہاں اصل فیصلے ہمیشہ فوجی اسٹبلشمنٹ ہی کرتی آئی ہے۔ پاکستان میں مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے ایک ماہ بعد سیاحتی مقام مری میں مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کی قیادت نے بلوچستان میں حکومت سازی کی تشکیل کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

اس معاہدے کی دیگر شقوں کے ساتھ ساتھ سب سے نمایاں شق یہ تھی کہ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ڈھائی سال کے لیے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ہوں گے اور اس کے بعد مسلم لیگ (ن) سے اگلا وزیر اعلیٰ منتخب کیا جائےگا۔

اس معاہدے کے تحت موجودہ وزیر اعلٰی عبدالمالک بلوچ پانچ دسمبر دو ہزار پندرہ کو اپنی ڈھائی سالہ مدت پوری کر چکے ہیں۔ عبدالمالک بلوچ کی بطور وزیر اعلٰی کارکردگی سے نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ فوجی قیادت بھی مطمئن دکھائی دیتی تھی۔

Abdul Malik Baloch Belutschistan Chief Minister

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اپنی ڈھائی سالہ حکومت کی مدت پوری کر چکے ہیں

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف عبدالمالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کے حق میں تھے لیکن پارٹی رہنماؤں خصوصاً بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لیگی رہنماؤں کے دباؤ کے باعث مری میں طے کردہ فارمولے پر عمل کرتے ہو ئے ثنااللہ زہری کو وزیر اعلٰی نامزد کیا گیا ہے۔

نواب ثنااللہ زہری کا سیاسی کیریئر

زہری قبیلے کے سردار اور چیف آف جھلاوان نواب ثنااللہ زہری چار اگست انیس سو اکسٹھ کو بلوچستان کے ضلع خضدار میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد سردار دودا خان زہری تحریک پاکستان کے اہم کارکن تھے۔ ثنااللہ زہری نے کراچی یونیورسٹی سے سیاسیات میں بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ انیس سو ستانوے میں وہ بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ وہ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں خضدار میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ نمبر پچاس سے نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔ ثنااللہ زہری سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں صوبائی وزیر برائے جیل خانہ جات اور قبائل امور بھی رہ چکے ہیں۔

وہ دو ہزار آٹھ میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں بھی صوبائی وزیر رہے تھے۔ ثنااللہ زہری نے دو ہزار دس میں مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی تھی۔ دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں وہ خضدار کے حلقے پی بی تینتیس سے دوبارہ منتخب ہوئے تھے اور سات جون دو ہزار تیرہ کو انہیں سینیئر صوبائی وزیر بنا دیا گیا تھا۔

خاندانی دشمنیوں کی وجہ سے ان پر کئی مرتبہ قاتلانہ حملے بھی ہو چکے ہیں اور اپریل دو ہزار تیرہ میں انتخابی مہم کے دوران ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ثنااللہ زہری خود تو محفوظ رہے تھے لیکن اس حملے میں ان کا بیٹا، بھائی اور بھتیجا ہلاک ہو گئے تھے۔

DW.COM