1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نون لیگ کی لندن بیٹھک

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے اپنے قریبی رفقاء کو مشورے کے لیے لندن طلب کر لیا ہے، جس سے ملک میں ایک بار پھر افواہوں کا بازار گرم ہوگیا ہے اور یہ اجلاس مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ لندن میں ہونے والے اس اجلاس کے حوالے سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ان افواہوں کا ملک کی اسٹاک ایکسچینج پر بھی اثر ہو رہا اور وہاں بھی کاروبار میں مندی نظر آرہی ہے۔ خود نواز شریف نے بھی آج لندن میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کہ جب سے انہیں ہٹایا گیا ہے اسٹاک ایکسچینج میں دس سے بارہ ہزار پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے اس لندن اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بتایا جائے کہ وزراء کے لندن جانے کے اخراجات کون اٹھا رہا ہے؟
پاکستانی ذرائع ابلاغ کے کچھ حصے دعویٰ کر رہے ہیں کہ لندن کی اس بیٹھک میں شہباز شریف کو پارٹی قیادت سونپی جا سکتی ہے۔ اس اجلاس میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور وزیرِ خارجہ خواجہ آصف سمیت نون لیگ کے کچھ اور اہم رہنما شرکت کر رہے ہیں۔

شریف خاندان میں بڑھتے ہوئے اختلافات
کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں نون لیگ کے اندر جانشینی کی جنگ چھڑی ہوئی ہے، جس سے یہ امکان ہے کہ پارٹی منقسم ہو سکتی ہے۔ اس اجلاس کے انعقاد پر اپنی رائے دیتے ہوئے لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میرے خیال میں نواز شریف اپنا جانشین مریم کو ہی سمجھتے ہیں۔ خود مریم نے بھی ایک انٹرویو میں اس بات کا اظہار کیا لیکن جب شہباز شریف کیمپ کی طرف سے شور اٹھا، تو انہوں نے اس انٹرویو کی مختلف تاویلیں پیش کرنا شروع کر دیں۔ آج کے اجلاس میں وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنے جا رہے، جس سے اس بات کو تقویت ملے کہ پارٹی کی صدارت شہباز شریف کے پاس جا رہی ہے۔ اس اجلاس میں جن افراد کو بلایا گیا ہے، ان میں شہباز کیمپ کا کوئی آدمی نہیں ہے۔ چوہدری نثار ، جو شہباز شریف کے سب سے قریبی آدمی ہیں، وہ ملک میں ہے۔ میرے خیال میں اس اجلاس کا محور طاقت ور حلقوں کی طرف سے ن لیگ پر ڈالا جانے والا دباو ہے اور اس دباو سے نمٹنے کے لئے اسٹریٹیجی تیار کی جائے گی اور یہ اجلاس اسی سلسلے کی کڑی ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ایسی اطلاعات ہیں کہ سعودی شاہی گھرانے کے ذریعے میاں صاحب نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے صلح کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کوشش میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی، اسی لئے میاں صاحب نے آئندہ کا لا ئحہ عمل تیار کرنے کے لئے یہ اجلاس بلایا ہے۔‘‘

نواز، مریم اور صفدر پر فردِ جرم عائد: کیا یہ سیاسی انتقام ہے؟
کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ملک میں جمہوریت کے خلاف سازش کی جا رہی ہے اور نون لیگ اس سے نمٹنے کے لئے لائحہ عمل تیار کر ر ہی ہے۔ پاکستان کی ایوانِ بالا کے رکن عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ کچھ قوتیں مسلم لیگ ن کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ملک میں عدم استحکام پیدا کیا جائے۔ ’’سب کو پتہ ہے کہ کون سی قوتیں اس ملک میں نون لیگ کو توڑ کر قبل از وقت الیکشن کی راہ ہموار کرنا چا ہتی ہیں اور سینیٹ کے الیکشن کا راستہ روکنا چاہتی ہیں کیونکہ جب نون لیگ کو توڑا جائے گا تو اس بات کا امکان ہے کہ وہ ایوان میں اکثریت کھو بیٹھے گی اور جب یہ اکثریت ختم ہوجائے گی تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہوجائیگی۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس کا مقصد ممکنہ طور پر ایسی سازشوں کے حوالے سے کوئی اسٹریٹیجی تیار کرنا ہوسکتا ہے،’’میں نواز شریف کا سخت مخالف رہا ہوں لیکن یہ موجودہ حکومت کا حق ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کرے۔ ملک میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنے کی باتیں ختم ہونی چاہیں۔ ہم کسی بھی غیر آئینی اقدام کو نہیں مانیں گے۔‘‘
نون لیگ اس اجلاس پر ابھی تک خاموش ہے۔ پارٹی کے رہنما راجہ ظفر الحق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ابھی اس اجلاس کو ہونے دیں، اس کے بعد ہی اس کے بارے میں کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘‘

DW.COM