1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نوشہرہ میں کار بم حملہ، کم از کم پانچ افراد ہلاک

صوبہ سرحد کے شہر نوشہرہ میں خودکش حملے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ 63 سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ ہنگو میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔

default

عسکریت پسندوں کی سب سے زیادہ کارروائیاں صوبہ سرحد میں جاری ہیں

پشاورکے مختلف علاقوں میں پولیس چیک پوسٹوں اور خیبرروڈ کے حساس علاقوں میں مختلف عمارتوں پر فائرنگ بھی کی گئی جبکہ سیکیورٹی فورسز کے مطابق بنوں، مومندایجنسی، مالاکنڈ اور پشاورمیں آپریشن کے دوران مجموعی طورپر 36عسکریت پسندہلاک اور درجنوں گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ مومندایجنسی میں سیکیورٹی فورسز کے ایک افسر سمیت ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

نوشہرہ خودکش حملے میں بارود سے بھری ایک گاڑی کو مسجد سے ٹکرا کردھماکہ سے اڑا دیاگیا اس دھماکہ کے نتیجے میں خودکش حملہ آور سمیت پانچ نماز ی ہلاک جبکہ 63زخمی ہوئے ہیں۔ نوشہر ہ کنٹونمنٹ کے علاقے میں واقع سپلائی ڈپو جامع مسجد میں اس وقت سینکڑوں افرادنماز جمعہ ادا کرنے میں مصروف تھے اسی دوران یہ دھماکہ ہوا۔

دھماکے کے بارے میں نوشہرہ کے ضلعی پولیس آفیسر عبداللہ کا کہناہے: ’’ یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں حملہ آور نے ایمبولینس ٹائپ کی گاڑی مسجد کی دیوار کے ساتھ ٹکراکر دھماکہ سے اڑادی۔‘‘

عبداللہ کے مطابق یہ دھماکہ حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں بنوں اور مالاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کاردعمل ہوسکتا ہے۔ پولیس اہلکار کے مطابق خودکش حملہ آور کے جسم کے حصے مل گئے ہیں جو تفتیش میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور سمیت پانچ افرادہلاک ہوئے جبکہ 63زخمی ہیں جن میں چھ کی حالت نازک ہے۔

’’یہ چونکہ فوجی علاقہ ہے اس لیے یہاں سیکیورٹی کے لئے فوج اورپولیس دونوں موجود ہوتے ہیں۔ سیکیورٹی کی کمی نہیں کہہ سکتے ہیں بم ڈسپوزل سکواڈ کے ابتدائی تحقیق کے مطابق دھماکہ میں استعمال ہونے والی گاڑی میں تین من دھماکہ خیز مواد اور چالیس مارٹر نیل استعمال کیے گئے ‘‘۔

ادھر صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں سیکیورٹی پرمامور پولیس اہلکاروں کی گاڑی پر دومرتبہ حملہ کیاگیا پہلے حملے میں پولیس اہلکار بچ گئے تاہم ہنگو کے علاقے ماموخوڑ میں ان پر کیے گئے دوسرے حملے میں چارپولیس اہلکار ہلاک جبکہ ایک افسرسمیت چھ زخمی ہوئے ہیں۔ ہنگو کے علاوہ صوبائی دارالحکومت پشاورمیں علی الصبح پولیس کے مختلف چیک پوسٹوں پر فائرنگ کی گئی جبکہ رات گئے پولیس موبائل پر ہینڈ گرینڈ حملے اور خودکش حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔ دہشت گرد رات گئے پشاورکے حساس علاقے خیبرروڈ پر 45 منٹ تک فائرنگ کرتے رہے اس دوران پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس میں ایک حملہ آور ہلاک ہوا گیا اسی علاقے میں سپریم کورٹ، ضلعی کچہری اورمختلف سرکاری دفاتر کے علاوہ فوج کے کورکمانڈر کی رہائش گاہ بھی ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف بنوں کے علاقے جانی خیل میں چوتھے روز بھی آپریشن جاری رکھا بنوں کینٹ سے عسکریت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں پر گولہ باری کی گئی جس میں 18 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سرہ درگاہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایاگیا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے اسے کلیئر قرار دے دیا۔ بنوں کے ساتھ سیکیورٹی فورسز نے مومندایجنسی میں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران 13عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے دواہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں باجوڑ ایجنسی میں بھی عسکریت پسندوں کے بعض ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی ہے جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کاخدشہ ہے۔

رپورٹ : فرید اللہ خان، پشاور

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM