1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نوشہرہ میں بم دھماکہ ، چودہ افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ کے نواح میں ہوئے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم چودہ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

default

یہ دھماکہ جمعرات کے دن اس وقت ہوا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد افطاری کے بعد ایک مقامی ہوٹل میں موجود تھی۔ یہ واقعہ عسکری حوالے سے اہم سمجھے جانے والے شہر نوشہرہ کے نواح میں واقع رسالپور بازار میں پیش آیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس دہشت گردانہ کارروائی میں گیارہ افراد ہلاک جبکہ بائیس زخمی ہوئے۔ نوشہرہ پولیس کے بقول ریموٹ کنٹرول بم ایک سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

جائے حادثہ پر موجود اعلیٰ پولیس اہلکار حیات خان نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک شدگان میں دو فوجی اور ایئر فورس کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔ حیات خان کے مطابق ،’ایک خاتون اور بچہ بھی ہلاک ہوا ہے۔ یہ ایک ریموٹ کنٹرول بم تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ مزید حقائق اکٹھے کر رہا ہے۔‘

پاکستان کے مقامی ٹیلی وژن چینلز پر جاری کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دھماکے کی جگہ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جس ہوٹل کے قریب یہ دھماکہ ہوا، وہ جگہ اور اس کے آس پاس کے مقامات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ نوشہرہ پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار محمد حسین نے بتایا، ’اس دھماکے کی شدت سے ہوٹل تباہ ہو گیا اور اس کے ساتھ واقع ایک اور ہوٹل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ جائے حادثہ کے قریب چھ دکانیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔‘

NO FLASH Pakistan Charsadda Selbstmordanschlag Taliban

دھماکے کی شدت سے آس پاس کی عمارات کو بھی شدید نقصان پہنچا

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک سے عسکریت پسندی اور دہشت گردی جیسی لعنت کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا، ’جو لوگ معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں، ان کا نہ تو کوئی دین ہے اور نہ ہی کوئی ایمان۔ وہ صرف اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں۔‘

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چار برسوں کے دوران مختلف خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے نتیجے میں کم ازکم چار ہزار پانچ سو پچاس افراد مارے جا چکے ہیں۔ حکومت پاکستان کے مطابق ان میں سے زیادہ تر حملے طالبان یا پھر القاعدہ کے حامی گروہوں نے کیے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس