1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نوری المالکی بطور وزیر اعظم نامزد

عراق کے صدر جلال طالبانی نے آٹھ مارچ کے پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت سازی کے عمل کا اہم فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نوری المالکی کو ایک بار پھر اس منصب پر نامزد کردیا ہے۔

default

نوری المالکی: فائل فوٹو

عراق کے سخت گو ليکن کشش سے محروم شخصيت والے وزير اعظم اور سابق باغی نوری المالکی کو، واضح نتائج پيدا نہ کر سکنے والے انتخابات کے آٹھ مہينے بعد آج دوبارہ وزير اعظم مقرر کر ديا گيا ہے۔ صدر جلال طلابانی نے، جو خود بھی حال ہی ميں پھر صدر منتخب ہوئے ہيں، عراق کے منقسم گروپوں ميں طاقت کی تقسيم کے سمجھوتے کے طے پانے کے دو ہفتے بعد بغداد کے صدارتی محل ميں ہونے والی ايک تقريب ميں المالکی کو دوبارہ وزير اعظم نامزد کيا ہے۔

سابق گوريلا ليڈر المالکی کو صدام حسين کے دور ميں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ وہ، کئی عشروں کی جلا وطنی کے بعد سن 2006 ميں دوبارہ منظر عام پر نمودار ہوئے تھے اور انہوں نے صدام کے بعد عراق ميں قائم ہونے والی پہلی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

Jalal Talabani

جلال طالبانی: فائل فوٹو

اکتوبر ميں عراق کے سب سے بڑے شيعہ پارليمانی بازو، قومی اتحاد نے مارچ کے انتخابات کے بعد سے حکومت کی تشکيل پر جاری تعطل کے خاتمے کے لئے المالکی کو وزير اعظم کے عہدے کا اميدوار منتخب کيا۔ تين دن کے تناؤ سے پُر مذاکرات کے بعد اس سلسلے ميں بالآخر 11 نومبر کو سمجھوتہ ہو گيا۔

مارچ ميں ہونے والے پارليمانی انتخابات میں نوری المالکی کی پارٹی کو، سابق وزير اعظم اياد علاوی کی شيعہ پارٹی سے دو نشستيں کم ملی تھيں۔ ليکن ان دونوں شيعہ جماعتوں ميں سے کسی کو بھی اکیلے خود اپنی حکومت بنانے کے لئے درکار 163 نشستيں نہيں مل سکی تھيں۔ اليکشن کے بعد المالکی نے شيعہ مذہبی گروپوں کے اتحاد ’عراقی قومی اتحاد‘ کے ساتھ مل کر قومی اتحاد نامی گروپ بنا ليا۔ المالکی، جنہيں منظر عام پر شايد ہی کبھی مسکراتے ہوئے ديکھا گيا ہو، ايک ایسے مضبوط ليڈر کی شہرت حاصل کر چکے ہيں، جس نے جنگ زدہ عراق ميں استحکام پيدا کيا ہے۔

Irak Regierungsbildung

ایاد علاوی پارلیمنٹ میں: فائل فوٹو

امريکی حملے کے بعد مئی سن 2006 ميں عراق کی پہلی حکومت سنبھانے والے وزير اعظم المالکی کی اقتدار پر گرفت کے لئے سب سے سخت اور بے رحمانہ چيلنج فرقہ وارانہ لڑائی اور تشدد ہے۔ وہ يہ کہہ چکے ہيں کہ وہ خود کو امريکہ کا دوست تو سمجھتے ہيں ليکن وہ اس خطے ميں امريکی عزائم کو پورا کرنے پر مامور نہيں ہيں۔ وہ، ملک کے اندر اور باہر اپنی کم ہوتی ہوئی حمايت کا سامنا کر چکے ہيں کيونکہ سن 2007 ميں اُن پر شيعہ مليشيا سے نمٹنے کے سلسلے ميں کوتاہی کا الزام لگايا گيا تھا۔

سابق امريکی صدر جارج ڈبلیو بُش نے المالکی کے بارے ميں کہا تھا کہ وہ ايک اچھے آدمی ہيں، جنہيں ايک مشکل کام کا سامنا ہے۔

المالکی، سن 1950 ميں شيعہ اکثريت والے صوبے بابل ميں پيدا ہوئے تھے۔ اُنہوں نے ، عربی ادب ميں ايم۔ اے کيا ہے۔ اپنے طالبعلمی کے دور ہی ميں وہ عراق ميں صدام کی مخالف سب سے پرانی تنظيم شيعہ اسلامی دعوہ پارٹی

Flash-Galerie Irak Regierungsbildung

عراقی پارلیمنٹ

کے رکن بن گئے تھے۔ صدام کی طرف سے اس پارٹی پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد وہ سن1979 ميں ملک سے فرار ہو گئے تھے اور دعوہ پارٹی کا کہنا ہے کہ انہيں غير حاضری ميں موت کی سزا سنا دی گئی تھی۔ سن 1980 کے بعد سے ان کا قيام ايران اور شام ميں رہا، جہاں وہ دعوہ پارٹی کے اخبار کی ادارت بھی کرتے رہے۔ وہ ايران سے عراقی حدود کے اندر ہونے والے حملوں کے انتظامات ميں بھی حصہ ليتے رہے۔

 سن 2003 ميں عراق پر امريکی قبضے کے بعد وہ عراق واپس آگئے اور بعث پارٹی کے اثرات کو ختم کرنے والے اُس کميشن ميں شامل ہوگئے، جو صدام حسين کے حاميوں کو سرکاری عہدوں سے ہٹانے کا کام انجام دے رہا تھا۔ اپنے پيش رو پر کردوں اور سنيوں کی طرف سے بہت زيادہ فرقہ واريت کے الزامات کے بعد وہ سن 2006 ميں وزير اعظم نامزد ہوئے۔

عراق ميں تشدد سن 2006 اور سن 2007 ميں نقطہء عروج کو پہنچنے کے بعد بہت کم ہوتا گيا ليکن اسے اپنی کاميابی قرار دينے کا المالکی کا دعوٰی صحيح نہيں بلکہ اس کی وجہ امريکی فوج ميں اضافہ اور القاعدہ سے جنگ میں سنی قبائلی گروپوں کا تعاون تھا۔

المالکی کے دور ميں جون سن 2009 ميں امريکی فوجی دستے شہری علاقوں سے نکل گئے اور اگست کے آخر ميں امريکی لڑاکا کارروائياں ختم کردی گئيں۔ اب 50 ہزار امريکی فوجی مشاورت اور عراقی فوج کی مدد کے لئے عراق ميں موجود ہيں۔

پچھلے ماہ نوری المالکی اُس وقت ايک بار پھر دباؤ کی زد ميں آ گئے، جب وکی ليکس نے امريکی فوجی دستاويزات کی اشاعت کی، جن کے مطابق المالکی کے دور ميں رياست کی طرف سے اذيت رسانی  کی گئی اور رياست نے ڈيتھ اسکواڈز سے بھی روابط رکھے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی / خبر رساں ادارے      

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس