1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نوجوان کی ہلاکت، وادی کشمیر میں شدید کشیدگی

ایک کم عمر نوجوان کی حالیہ ہلاکت کے بعد علیحدگی پسندوں کی کال پر پیر کے روز بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہڑتال جاری ہے اور تمام دفاتر، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

default

اس ہڑتال کے موقع پر مسلم اکثریتی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے۔ جمعہ کے روز سری نگر میں ایک 17 سالہ نوجوان حکومت مخالف مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں ہلاک ہو گیا تھا، جس کے بعد وادی میں پہلے سے کشیدہ حالات میں مزید تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

Indien Jammu Kashmir Aktivisten Protest Demonstration

گزشتہ چند ہفتوں میں بھارتی زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے

بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طفیل احمد ماتو نامی یہ نوجوان پولیس کی جانب سے فائر کئے گئے آنسو گیس کے ایک شیل کا نشانہ بنا اور ہسپتال پہنچائے جانے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔ ماتو کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ان مظاہروں کا حصہ نہیں تھا بلکہ جس وقت وہ پولیس کے اس شیل کا شکار بنا، اس وقت وہ اپنا اسکول بیگ لئے گھر جا رہا تھا۔ اس نوجوان کی ہلاکت کے واقعے سے اب تک مختلف پر تشدد مظاہروں میں تقریبا 70 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔

گزشتہ بیس برسوں میں وادی کشمیر میں نئی دہلی کی حکمرانی کے خلاف مسلح جدوجہد شروع ہونے کے بعد سے اب تک سرکاری اندازوں کے مطابق وہاں کم از کم 47 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق فوج کی جانب سے رواں برس اپریل میں تین کشمیریوں کے مبینہ قتل کے واقعے کے بعد سے وادی میں پائی جانے والی کشیدگی میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ فوج نے ان ہلاکتوں کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ تمام ہلاک شدگان عسکریت پسند تھے، تاہم بعد میں ایک تفتیش کے بعد ان ہلاکتوں کے ذمہ دار افسران کے خلاف ایکشن لیا گیا تھا۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM