1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نوجوانوں کا عالمی دن: پاکستانی نوجوان بے روزگار کیوں؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج جمعہ بارہ اگست کو نوجوانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس سال یہ دن نوجوانوں میں غربت کے خاتمے اور پائیدار کھپت اور پیداوار کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔

International Digital Youth Summit Pakistan

اقتصادی ماہرین کے مطابق افرادی قوت کی پاکستانی منڈی لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کی موجودگی سے فائدہ نہیں اٹھا رہی

35 سالہ رفیق احمد پاکستان کے ایک ایسے شہری ہیں، جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اب تک بے روزگار ہیں۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی نوکری کی تلاش میں کئی سال ضائع کرنے کے بعد اب رفیق احمد دبئی جا کر نوکری تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے ملک میں نوکری کا حصول اتنا مشکل ہے کہ انہیں دیار غیر میں جا کر کوئی چھوٹا موٹا روزگار اپنا لینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جن کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ماہرین کے مطابق آبادی کے 60 فیصد حصے پر مشتمل اس طبقے کا آج کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری اور غربت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس عالمی دن کے موقع پر اس بات پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو کس طرح غربت کی دلدل سے نکالا جائے۔

دیکھا جائے تو پاکستان اپنی بہت زیادہ افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا میں دسویں نمبر پر ہے لیکن روزگار کی مقامی منڈی میں اتنی بڑی افرادی قوت کی خاطر خواہ کھپت نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق اسی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جو نوجوانوں کو مایوسی کی جانب دھکیل رہی ہیں۔

معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حفیظ احمد نے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق ملک میں ایک اندازے کے مطابق تقریباً چار ملین نوجوان نہ تو تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی روزگار ہے۔ ڈاکٹر حفیظ کے مطابق ، ’’لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں اور یہ بات غربت میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ گرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے کم سود پر 12 ہزار روپے قرض لیا جا سکتا ہے اور اس سے پاکستان کے ڈھائی لاکھ نوجوان فائدہ اٹھا سکتے ہیں تاہم یہ رقم کاروبار شروع کرنے کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔‘‘

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے، ’’پاکستان کا شمار دنیا کی دس بڑی افرادی قوتوں میں ہوتا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں نوجوان آبادی کو روزگار دینے کے لیے ضروری ہے کہ ملکی معیشت سالانہ سات فیصد کی شرح سے ترقی کرے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں اقتصادی شرح نمو محض تین سے چار فیصد سالانہ رہی ہے۔‘‘

Pakistan Bibliothek Islamische Universität Peschawar

’پاکستانی یونیورسٹیاں زیادہ تر صرف بے روزگار نوجوان تیار کر رہی ہیں‘

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 20 لاکھ نوجوان یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کر کے نوکریاں تلاش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ملک میں 21 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح نو فیصد ہے۔ ڈاکٹر اشفاق کے مطابق اس کی ایک وجہ نصاب تعلیم کا ’اپ ٹو ڈیٹ‘ نہ ہونا بھی ہے، ’’ہماری یونیورسٹیاں ایسے تعلیم یافتہ افراد پیدا کر رہی ہیں جو بے روزگار ہیں اور ایسے تعلیم یافتہ افراد کی مارکیٹ میں کوئی کھپت نہیں ہے۔‘‘

حال ہی میں پاکستانی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے ملک میں روزگار اور بے روزگاری پر ایک حقائق نامہ جاری کیا۔ اس کے مطابق مالی سال دو ہزار بارہ تیرہ اور دو ہزار تیرہ چودہ میں صرف 13 لاکھ کارکن ملکی لیبر مارکیٹ میں داخل ہوئے جبکہ اس سے پہلے ہر سال 15 لاکھ کارکن روزگار کی قومی منڈی میں شامل ہوتے تھے۔ لہٰذا اس طرح ان برسوں میں تقریباً 17 لاکھ ورکرز یا تو لیبر مارکیٹ میں آئے ہی نہیں یا پھر قومی ادارہ شماریات اس بات کا صحیح اندازہ ہی نہیں لگا سکا۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بے روزگار مردوں کی عمریں 15 سے 29 سال تک ہیں اور یہ نوجوان مرد نہ تو تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی ملازمتیں تلاش کر رہے ہیں۔ ان نوجوان بے روزگاروں کی تعداد 10 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ لہٰذا ممکنہ طور پر ایسے افراد مختلف جرائم کی طرف با آسانی مائل ہو سکتے ہیں جبکہ بد قسمتی سے حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے مختلف یوتھ پروگرام بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔

انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کے اقتصادی ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان میں لیبر مارکیٹ میں منفی اور مثبت دونوں رجحان دیکھے گئے ہیں۔ لیکن اگر پائیدار انداز میں ملک میں بے روزگاری میں کمی کی جائے تو یہ عمل مجموعی قومی پیداوار میں چھ فیصد تک اضافے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کو چاہیے کہ وہ ہنر مند افراد تیار کرنے اور ان کو ملازمتوں کی فراہمی کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں۔

DW.COM