1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نوبل انعام یافتہ یونس عدالتی اپیل ہار گئے

بنگلہ دیش کے سینٹرل بینک کی جانب سے گرامین بینک کے روح رواں اور مینیجنگ ڈائریکٹر محمد یونس کو ان کے منصب سے ہٹائے جانے کے خلاف اپیل بنگلہ دیش ہائی کورٹ نے خارج کردی ہے۔

default

یونس اور گرامین بینک کا لوگو

بنگلہ دیش ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ستر سالہ محمد یونس گرامین بینک میں ملازمت بغیر کسی قانونی بنیاد کے جاری رکھے ہوئے تھے اور اسی وجہ سے ان کی اپیل خارج کی گئی ہے۔ فیصلہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس ممتاز الدین احمد نے سنایا۔ اس جج کے مطابق محمد یونس کو گرامین بینک کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹانے کا سرکاری حکم درست ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مینیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ بینک کے ایک افسر کا ہے اور اس کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد ساٹھ سال ہے اور محمد یونس عمر کی یہ حد کئی سال پہلے ہی عبور کر چکے ہیں۔

بنگلہ دیشی اٹارنی جنرل محبوب عالم نے عدالت کو بتایا کہ بنگلہ دیشی دستور میں تاحیات کسی کو ملازم رکھنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے اور گرامین بینک کے بورڈ کا اس مناسبت سے فیصلہ دستوری اساس کے بغیر ہے۔ محبوب عالم کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونس کو خود گرامین بینک کے بورڈ کے فیصلے کو قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف محمد یونس نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ ہائی کورٹ میں فیصلہ سنائے جانے کے وقت موجود نہیں تھے۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ ان کے حسب توقع ہے۔ گرامین بینک کے چیف کی وکلاء کی ٹیم کے ایک رکن Tanim Hussain Shawon کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کو عدالت کی جانب سے انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

Flash-Galerie Muhammad Yunus

محمد یونس اور گرامین بینک کے کھاتہ دار

اپیل خارج ہونے کے بعد محمد یونس عدالتی فیصلے کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے گرامین بینک کے صدر دفتر پہنچے تھے۔ حکومت کے بعض حامیوں کے مطابق اس مناسبت سے حکام ان کے خلاف توہین عدالت کے تحت کارروائی کی درخواست بھی دائر کر سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے سینٹرل بینک نے گرامین بینک کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے یہ موقف اپنایا تھا کہ سن 1999 میں دوبارہ تعیناتی کے بعد انہوں نے اپنی ملازمت برقرار رکھنے کی منظوری نہیں لی تھی۔ محمد یونس کو بنگلہ دیش کے سینٹرل بینک نے گزشتہ ہفتہ کے دوران ریٹائر منٹ کی حد سے زیادہ عمر کا حامل ہونے پر ملازمت سے فارغ کر دیا تھا۔

ماہرین کے خیال میں گرامین بینک کے چیف اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی بڑھتی جا رہی ہے۔ مخالفت کی بڑی وجہ محمد یونس کی جانب سے سن 2007 میں سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان خیال کیا جاتا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں محمد یونس کا یہ اعلان وزیر اعظم شیخ حسینہ کو غالباﹰ پسند نہیں آیا تھا۔ شیخ حسینہ نے کھلے عام محمد یونس کے خلاف بیان بھی دیے تھے۔ محمد یونس کو سن 2006 میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

گرامین بینک کے چوبیس فیصد حصص حکومتی کنٹرول میں ہیں اور اس کے ملازمین کی تعداد چوبیس ہزار کے قریب ہے۔ اس کا قیام سن 1983 میں عمل میں آیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس