1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نوبل انعام یافتہ لیو ژیاؤبُو ایک برس بعد بھی جیل میں

سات اکتوبر کو نوبل پرائز کمیٹی نے رواں برس کے نوبل انعام برائے امن کا اعلان کر دیا۔ ٹھیک ایک برس قبل چین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اسیر رہنما لیو ژیاؤبُو کو یہ انعام دیا گیا تھا اور وہ ابھی تک جیل ہی میں ہیں۔

default

ٹھیک ایک سال قبل جب ایک چینی جیل میں قید انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے لیو ژیاؤبو کو نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا، تو اس وقت یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید بیجنگ حکومت انہیں رہا کر دے گی یا کم از کم ان کی سزا میں نرمی کر دی جائے گی۔ تاہم ایسا ابھی تک ہوا نہیں۔ اس کے برعکس چین نے گزشتہ برس نوبل کمیٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیصلے سے چین اور ناروے کے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔

گزشتہ برس نوبل امن انعام حاصل کرنے والے لیو ژیاؤبُو چین میں گیارہ برس کی سزائے قید کاٹ رہے ہیں۔ چینی حکومت انہیں ایک ’مجرم‘ قرار دیتی آئی ہے۔ ژیاؤبُو نے معاون مصنف کے بطور چارٹر ایٹ نامی ایک مطالباتی مراسلہ لکھا تھا، جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ملک میں سیاسی اصلاحات عمل میں لائے۔ اس کے بعد ژیاؤبُو کو گیارہ برس قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔

Jahresrückblick 2010 International Norwegen China Friedensnobelpreis Verleihung an Liu Xiaobo in Oslo Thorbjörn Jagland Flash-Galerie

مبصرین چینی عدالتی فیصلوں کو قانون کی بالادستی کے اظہار کی بجائے عدالتوں پر چینی حکومت کے اثر و رسوخ سے تعبیر کرتے ہیں۔

گزشتہ برس لیو ژیاؤبُو کے لیے امن کے نوبل انعام کے اعلان کو چین نے ’اشتعال انگیز‘ کارروائی قرار دیا تھا۔ بیجنگ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ انعام دے کر چین کے قانونی نظام کی توہین کی گئی ہے اور چینی عوام کے احساسات کو مجروح کیا گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد لیو ژیاؤبُو کے قید کو مزید سخت بنا دیا گیا تھا۔

گزشتہ برس سے اب تک اہل خانہ کو ژیاؤبُو سے ملنے کی صرف چار بار ہی اجازت مل پائی ہے۔ ستمبر میں ژیاؤبُو کو اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔

ژیاؤبُو کے لیے نوبل امن انعام کے اعلان کے ساتھ ہی ان کی اہلیہ لیو ژیا کو نظربند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے تھے اور لیو ژیا کے بارے میں اب بھی زیادہ معلومات دستیاب نہیں جبکہ اہل خانہ کی عوامی مقامات پر آمد و رفت اور عام لوگوں سے بات چیت پر بھی قدغن لگا دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ عرب دنیا میں عوامی انقلابوں کے بعد چین میں جمہوریت پسندوں کے خلاف پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع پر بھی بیجنگ حکومت کے زبردست کنٹرول کے باعث لیو ژیاؤبُو اور ان کی اہلیہ کی جانب سے ان کی صحت یا انہیں درپیش صورتحال کے حوالے سے کوئی پیغام سامنے نہیں آ پایا ہے، جس پر حقوق انسانی کی عالمی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کرتی آئی ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM