1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نوبل انعام یافتہ فلسطینی صدر یاسر عرفات کی پانچویں برسی

نوبل امن انعام یافتہ فلسطینی صدر یاسر عرفات کے انتقال کو بدھ کے روز ٹھیک پانچ برس ہو گئے۔ لیکن فلسطینیوں کا اسرائیل کے ساتھ حتمی قیام امن آج بھی اتنا ہی دور نظر آتا ہے جتنا کہ یاسر عرفات کی زندگی کے آخری دنوں میں تھا۔

default

نوے کے عشرے کے وسط تک یاسر عرفات فلسطینی مزاحمتی تحریک الفتح کے سربراہ تھے۔ اس دوران انہوں نے تنظیم آزادی فلسطین کے چیئرمین کی حیثیت سے فلسطینوں کے حقوق کے لئے اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھی۔

اوسلو میں 90 کی دہائی میں فلسطینیوں کا اسرائیل کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد مرحوم یاسر عرفات، مقتول اسرائیلی وزیراعظم رابین اورموجودہ اسرائیلی صدر شمعون پیری‍زکو، جو اس وقت وزیر خارجہ تھے، مشترکہ طور پر امن کے نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔

Yasser Arafat Mousoleum eingeweiht

یاسر عرفات کے مزار کا بیرونی احاطہ

اوسلو معاہدے کے بعد زیادہ دیر نہ لگی کہ اسرائیلی وزیراعظم رابین کو دائیں بازو کے ایک جنونی اسرائیلی شہری نے قتل کر دیا تھا۔ پھر بعد کے سالوں میں یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی خود مختارانتظامیہ پر مالی بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے۔ بین الاقوامی طور پر اس بارے میں شکوک کا اظہار بھی کیا جانے لگا تھا کہ آیا یاسر عرفات ہی فلسطینیوں کو ان کی عشروں سے تلاش کردہ ریاستی آزادی اور خود مختاری کی منزل دلوا سکتے تھے۔

یاسر عرفات کا انتقال پچھتر برس کی عمر میں ٹھیک پانچ سال پہلے گیارہ نومبر 2004 کے روز فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ایک ہسپتال میں ایک قدرے نامعلوم بیماری کی وجہ سے ہوا تھا۔

Jassir Arafat

یاسر عرفات: فائل فوٹو

یاسر عرفات کے انتقال کے بعد اوسلو مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے محمود عباس الفتح تحریک کے چیئر مین اور نئے فلسطینی صدر منتخب کئے گئے تھے جو ابھی تک اسرائیل سے فلسطینوں کا یہ حق تسلیم کروانے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام میں اب مزید تاخیر نہیں ہونا چاہیے۔

صدر محمود عباس اور ان کی فتح تحریک کو کافی عرصے سے داخلی طور پر فلسطینی تنظیم حماس کی سیاسی اور مسلح مزاحمت کا سامنا بھی ہے جو الفتح تحریک کے ساتھ اپنے اختلافات کے ابھی تک ختم نہ ہونے کی وجہ سے ان دنوں غزہ پٹی کے علاقے پر حکمرانی کر رہی ہے۔

آج بدھ کے روز یاسرعرفات کی پانچویں برسی کے موقع پر بہت سے عالمی رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں قیام امن کے لئے ان کے کردار کے حوالے سے مختلف بیانات بھی دئے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عاطف بلوچ