1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

نوبل انعام یافتگان اور نوجوان محققین کی سالانہ میٹنگ

نوبل انعام یافتگان اور نوجوان محققین کی انسٹھویں سالانہ میٹنگ کا موضوع کیمسٹری تھا جس میں 23 نوبل انعام یافتگان اور دنیا کے 67 ممالک سے 580 نوجوان محققین نے شرکت کی۔

default

پاکستانی شرکاء نوبل لوریٹس کونسل کی صدر کے ہمراہ

جرمن شہر لنڈاؤ میں منعقد ہونے والی سالانہ میٹنگ برائے نوبل انعام یافتگان اور نوجوان محققین کا اس برس کا موضوع کیمسٹری تھا۔ 28 جون کو شروع ہونے والی اس سالانہ میٹنگ کا یہ انسٹھواں اجلاس تھا۔

جرمنی، آسٹریا اور سوئٹزر لینڈ کی سرحد پر واقع کونسٹینس (Constance) نامی جھیل میں موجود جزیرے لنڈاؤ میں ہونے والی اس کانفرنس میں 23 نوبل انعام یافتگان جبکہ دنیا کے 67 ممالک سے 580 نوجوان محققین نے شرکت کی۔ ہفتہ بھر جاری رہنے والی لنڈاؤ میٹنگ کا اہم مقصد نوجوان سائنسدانوں کو نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں سے سیکھنے اور اپنے تجربات شیئر کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے مختلف لیکچرز، پینل ڈسکشنزاورسوال و جواب کے سیشنز کے علاوہ براہ راست ملاقات کے لئے بہت سے پروگرام مرتب کئے جاتے ہیں۔

آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کی سرحدوں کے بالکل قریب واقع لنڈاؤ میں ہونے والی نوبل لاریٹس کی میٹنگ برائے سال 2009 میں شریک ہونے والے 580 نوجوان محققین کو دنیا کے 67 ممالک میں موجود 120 یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا۔

N. M. Butt und Werner Arber

پاکستانی سائنسدان پروفیسر این ایم بٹ، نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر وارنرآربیر کے ہمراہ، نوجوان محقیقن بھی ساتھ ہیں

جنوبی ایشیائی ممالک میں سے بنگلہ دیش سے تین، پاکستان سے چھ جبکہ بھارت سے 45 نوجوان ریسرچرز اس برس میٹنگ میں شریک ہوئے۔ ان ملکوں سے آنے والے نوجوان سائنسدانوں کو اپنے ملکوں میں وسائل کی کمی کا شکوہ تو ضرور تھا مگر اس میٹنگ میں شرکت کے بعد ان کا خیال تھا کہ جنوبی ایشیائی ملکوں کے نوجوان اپنی صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

لنڈاؤمیں نوبل انعام یافتگان کی سالانہ میٹنگ کا آغاز 1951ء میں کیا گیا تھا، اور اس وقت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد نوبل انعام یافتگان اس میٹنگ کا انعقاد کرنے والی کمیٹی کے ارکان ہیں۔

نوبل انعام یافتگان اور نوجوان محققین کی انسٹھویں میٹنگ کا اختتامی سیشن 3 جون کوہوا۔ اس مقصد کے لئے تمام شرکاء کو ایک اور خوبصورت جزیرے میناؤ لے جایا گیا۔ کونسٹینس جھیل ہی میں سوئٹزر لینڈ کے قریب واقع اس جزیرے میں اختتامی روز ایک پینل ڈسکشن کا اہمتام بھی کیا گیا۔ جس میں Global Warming and Sustainability کے موضوع پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے عالمی حدت کے حوالے سے تازہ ترین اعداد وشمار اور اسکے خطرات سے بچاؤ کے لئے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اختتامی روز کیمسٹری کے میدان میں ہونے والی ایجادات پر ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

رپورٹ : افسراعوان

ادارت : عاطف توقیر

Audios and videos on the topic