1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نوبل انعام کی تقسیم سے قبل چینی حکومتی اقدامات

اس ماہ کی دس تاریخ کو نوبل انعام یافتگان میں اس اعزاز کو تفسیم کیا جانا ہے۔ اس انعام کے ایک حقدار چین کے مقید شہری لیو جیاؤبو بھی ہیں۔ چینی حکومت نے ملک سے باہر جانے والے اہم افراد کو ملک سے باہر جانے پر روک لیا ہے۔

default

ليو جياؤبو: فائل فوٹو

چينی حکام نے، چين کے مقيد، حکومت مخالف اديب ليو جياؤبو(Liu Xiaobo) کو اگلے ہفتے امن کا نوبل انعام ديے جانے کی تقريب سے قبل حکومت کے کئی ناقدين اور ليو جياؤبو کے حاميوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی ہے۔ چينی سرحدی پوليس نے مشہور چينی آرٹسٹ ايی  ویوائی (Ai Weiwei) اور حکومت پر تنقيد کرنے والے ماہرمعاشيات ماؤ يوشی کو چين سے باہر جانے سے روک ديا ہے۔ ان کے بہت سے حاميوں کے ساتھ بھی يہی سلوک کيا گيا ہے۔

ايی نے بيجنگ کے کيپيٹل انٹرنيشنل اير پورٹ سے جنوبی کوريا پرواز کرنے کی کوشش ميں ناکامی کے بعد اپنے ٹویٹر پیغام ميں لکھا ہے: " اير پورٹ کے سيکيورٹی عملے نے پرواز کی روانگی کے گيٹ پر مجھے روک ديا۔ وہ مجھے چين سے باہر جانے سے روک رہے ہيں۔"

ماؤ يو شی نے بتايا کہ انہيں بھی اسی ايئر پورٹ پر روک ليا گيا۔ وہ ايک کانفرنس میں شرکت کے لئے سنگا پورجانا چاہتے تھے۔ ماہر معاشيات ماؤ

Nobelpreisverleihung 2009 Flash-Galerie

نوبل انعام کے اعلان کے ہال کا اندرونی منظر

نے امريکی ريڈيو اسٹيشن فری ايشيا کو بتايا: " اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ ميں خطرناک آدمی ہوں۔ پوليس نے کہا کہ اُسے وجوہات کا علم نہيں تھا اور وہ صرف اوپر سے وصول ہونے والے احکامات پر عمل کررہے تھے۔"

ماؤ نے کہا کہ غالباً اس کا تعلق اگلے ہفتے ليو کو امن کا نوبل انعام ديے جانے کی تقريب سے ہے۔ ليوجياؤبو، بغاوت کے الزام ميں 11 سال قيد کی سزا بھگت رہے ہيں۔ِ

ليو کی اہليہ ليو جياؤ نے اکتوبر کے اواخر ميں ماؤ اور حکومت کے دوسرے 140بڑے مخالفين، وکلاء اور انسانی حقوق کے سرگرم حاميوں کو ايک کھلے خط ميں 10 دسمبر کو اوسلو ميں امن کا نوبل انعام دئے جانے کی تقريب ميں شرکت کی دعوت دی تھی۔

پوليس نے اس گروپ کے کئی دوسرے اراکين کو بھی چين سے باہر جانے سے روک ديا ہے۔ ان ميں سے اکثر کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے يا اُنہيں گھروں ميں نظر بند کرديا گيا ہے۔ ليوجياؤ بو کی اہليہ ليو جيا بھی، آٹھ اکتوبر کو امن کا نوبل انعام اُن کے شوہرکو ديئے جانے کے اعلان کے بعد سے گھرپر نظر بند ہيں۔

53 سالہ ايی، گذشتہ برسوں کے دوران چين کی، انسانی حقوق کی تحريک ميں مسلسل زيادہ سرگرم ہوتے گئے ہيں۔ پچھلے ماہ پوليس نے انہيں گھر ميں نظر بند کرديا کيونکہ وہ شنگھائی ميں ايک تقريب کا انتظام کررہے تھے جس ميں چين کی حکمران کميونسٹ پارٹی کا مذاق بھی اڑايا جانے والا تھا۔

ليو جياؤبو ايک مشہور اديب اور چينی حکومت کے مخالفين ميں سے ايک نماياں شخصيت ہيں۔ انہيں جمہوری اصلاحات کا منشور لکھنے پر 11 سال قيد کی سزا دی گئی ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت:  عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس