1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نوبل امن انعام یافتہ سوچی روہنگیا مسلمانوں کی ’نسل کشی‘ رکوائیں، نجیب رزاق

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پر شدید تنقید کرتے ہوئے نوبل امن انعام یافتہ سیاست دان آنگ سان سوچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ خون ریزی بند کروائیں۔

نجیب رزاق نے میانمار میں روہنگیا نسل افراد کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے آن سانگ سوچی کو اس کی روک تھام نہ کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہفتے کے روز دارالحکومت کوالالمپور میں ہزاروں افراد کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے نجیب رزاق نے کہا، ’’آنگ سان سوچی کو نوبل انعام دینے کا کیا فائدہ؟ اگر وہ اپنے ملک میں حکمران ہونے کے باوجود روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی نہیں رکوا سکتیں۔‘‘

نجیب رزاق کا اپنے خطاب میں کہا تھا کہ میانمار کی حکومت ملک کے مغربی حصے میں جاری یہ خون ریز کریک ڈاؤن ہر صورت میں روکے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے سے فرار ہونے والے ہر شخص کی داستان ریپ، تشدد اور قتل سے جڑی ہوئی ہے۔

’’ہم آنگ سان سوچی کو کہنا چاہتے ہیں کہ حد ہو چکی۔ ہمیں ہر صورت میں مسلمانوں اور اسلام کا تحفظ یقینی بنانا ہے اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس موقع پر نجیب رزاق کے مجمعے میں شریک افراد ’اللہ و اکبر‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

Demonstration Malaysia Muslime Myanmar Rohingya (Getty Images/M.Vastyayana)

اس اجتماع میں لوگ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں پر احتجاج کر رہے تھے

نجیب رزاق نے اس موقع پر کہا کہ وہ مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قتل عام کو رکوانے کے لیے حرکت میں آئے۔ ’’برائے مہربانی کچھ کرو۔ اقوام متحدہ! تم بھی کچھ کرو۔ دنیا آرام سے بیٹھ کر یہ نسل کشی نہیں دیکھ سکتی۔‘‘

واضح رہے کہ حالیہ کچھ ہفتوں میں میانمار کی ریاست راکھین سے دس ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان افراد کی ہجرت کی وجہ راکھین ریاست کے شمال میں جاری حکومتی کریک ڈاؤن ہے۔

بنگلہ دیش پہنچنے والے ان روہنگیا افراد کا کہنا ہے کہ انہیں میانمار کی سرکاری فورسز کی جانب سے اجتماعی جنسی زیادتی، تشدد اور قتل عام کا نشانہ بنایا گیا۔

میانمار ان الزامات کو مسترد کرتا ہے، تاہم حکومت نے غیرملکی صحافیوں اور آزاد تفتیش کاروں کی شمالی راکھین میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے اس معاملے میں میانمار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل کوالالمپور حکومت نے میانمار کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج بھی کیا تھا، جب کہ قریب پانچ سو افراد نے کوالالمپور میں میانمار کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ بھی کیا۔