نواز شریف کے شہر میں عمران خان ’پاورشو‘ | حالات حاضرہ | DW | 01.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف کے شہر میں عمران خان ’پاورشو‘

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور الیکشن کمیشن کے سامنے غلط بیانی کے الزامات کے بعد نواز شریف کے پاس حکومت کرنے کا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔

Oppositionsdemonstration in Pakistan

’کرپشن ثابت ہونے پر اب میاں نواز شریف کو گھر نہیں بلکہ جیل جانا ہو گا‘ عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور الیکشن کمیشن کے سامنے غلط بیانی کے الزامات کے بعد نواز شریف کے پاس حکومت کرنے کا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ عمران خان نے اتوار کی شام لاہور میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا اخلاقی جواز ختم ہونے کے بعد نواز کو مستعفی ہو جانا چاہیے،’’ کرپشن ثابت ہونے پر اب میاں نواز شریف کو گھر نہیں بلکہ جیل جانا ہو گا۔‘‘

لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملکی اقتدار مجرم سنبھالے ہوئے ہیں، جو اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے اصرارکیا کہ اب ایسے لوگوں کے خلاف قوم کو اٹھ کھڑا ہونا ہو گا، ’’وزیراعظم کو بتانا ہو گا کہ ان کے پاس دولت کیسے آئی، کتنا ٹیکس دیا، اور انہوں نے اپنی رقوم باہر کیسے منتقل کیں؟‘‘

عمران خان کے بقول ، ’’پاکستان میں حکومت نہ کرپشن روک سکی ہے اور نہ ہی ٹیکس نیٹ بڑھا سکی ہے اس لیے یہ حکومت بھاری قرضے لے رہی ہے۔ قوم کو بتایا جانا چاہیے کہ قرضے کی یہ رقوم کہاں خرچ کی جا رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے اس موقعے پر کہا کہ جب تک کرپشن ختم نہ کی گئی تو تب تک ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو سکے گی۔ ’’جب کسی معاشرے کا سربراہ کرپشن کرتا ہے تو پورا معاشرہ کرپشن کا شکار ہو جاتا ہے۔‘‘

Unruhen in Pakistan Islamabad

عمران خان کے بقول اگر پاکستان کے لوگ کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے وزیر اعظم سے استعفی مانگا تو ملک کے حالات بدل جائیں گے

عمران خان کے بقول بہت سے عرب ملکوں کی آمدنی تیل نہ پیدا کرنے والے صرف ایک مغربی ملک برطانیہ سے بھی کم ہے۔ برطانیہ اور دیگر مغربی ملکوں میں اہل اقتدار کے لیے عوام کی نسبت سے زیادہ کڑے اخلاقی میعارات کی توقع کی جاتی ہے، ’’امریکا کا سربراہ ٹیلی فون ٹیپ کرنے پر اقتدار سے محروم ہو جاتا ہے لیکن ہمارے فون ٹیپ ہو رہے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون کے ایک تگڑے وزیر کو صرف پولیس والے کے ساتھ ناروا سلوک کرنے پر مستعفی ہونا پڑا۔ پاکستان باہر کے ملکوں میں جا کر کیسے درست طرز عمل کا مظاہرہ کرنے لگ جاتے ہیں۔‘‘ ان کے بقول ’معاشرہ کرپٹ نہیں ہوتا حکمران کرپٹ ہوتے ہیں‘۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت میں آکر پیسے بنانا بہت آسان ہوتا ہے اس لیے مغرب میں حکمرانوں کو کاروبار نہیں کرنے دیا جاتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 11 ارب روپے گیس کی فراہمی، ٹیلی فون ایکسچینج، نہر اور سڑکوں کی تعمیر کی صورت میں رائے ونڈ سٹیٹ کے لیے خرچ کیا گیا، ’’ شہباز شریف کے 6 کیمپ آفسز ہیں۔ یہ سب کچھ اس ملک میں ہیں، جہاں بچوں کی بہت بڑی تعداد بیماریوں کی شکار اور تعلیم سے محروم ہے۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دنیا میں انصاف اور تعلیم کی سہولتوں کو فراہم کیے بغیراور مزدوروں اور کسانوں کے حقوق ادا کیے بغیر صرف سڑکیں اور پل بنا کر ملک کو ترقی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔

عمران نے کہا کہ اسلامی تاریخ کے مطابق بھی حکمرانوں کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑا تھا۔ یہ پاکستان کے عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے وزیر اعظم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال کریں۔ ان کے مطابق غریب لوگوں کو سزائیں دے کر اور امیر کرپٹ لوگوں کو سزائیں نہ دینے سے ملک نہیں چل سکے گا۔

عمران خان کے بقول اگر پاکستان کے لوگ کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے وزیر اعظم سے استعفی مانگا تو ملک کے حالات بدل جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اگلے اتوار کو فیصل آباد میں بڑا جلسہ کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں مزدوروں اور کسانوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ ان کے بقول پی ٹی آئی برسر اقتدار آکر قومی اداروں کی بلاوجہ نجکاری کرنے کی بجائے ان کی مینجمنٹ بہتر بنائے کی۔ انہوں نے جلسے میں بھرپور شرکت پر لاہور کے شہریوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے ’دہشت گردی کے خطرات‘ کے پیش نظر پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہیں دی تھی۔ لیکن اجازت نہ ملنے کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکن پچھلے دو دنوں سے اس جلسے کی تیاریاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس جلسے کے لیے پنجاب اسمبلی کے سامنے 15 فٹ اونچا سٹیج بنایا گیا تھا، اس سٹیج کے عقب میں سرخ اور سبز رنگ کی 15 فٹ اونچی ایک لمبی چوڑی ہورڈنگ لگائی گئی ہے، جس پر سفید شلوار کرتے میں ملبوس عمران خان کی تصویر لگائی گئی تھی۔

مال روڈ پر بنائے گئے لمبے پنڈال میں خواتین، صحافی اور مرد شرکاء کے لیے الگ الگ جگہ بنائی گئی تھی۔ خواتین کی حفاظت کے لیے 150 سے زائد خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات کی گئی تھیں۔ خواتین اور مردوں کے جلسہ گاہ میں آنے کے لیے الگ الگ راستے بنائے گئے تھے۔ جلسے میں آنے والے لوگوں کو وال تھرو گیٹس سے گزار کر اور میٹل ڈیٹیکٹر سے گزارنے کے بعد ہی جلسہ گاہ میں مخصوص راستے سے داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

لاہور کے ڈی آئی جی آپریشن نے جلسے کے بارے میں صحافیوں کو بتایا کہ انتظامیہ نے اس جلسے کے لیے فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پولیس نے جلسہ سے پہلے جلسہ گاہ سے دو نامعلوم افراد کو گرفتار کر کے تھانہ قلعہ گوجر سنگھ پہنچا دیا تھا۔ کامرہ سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں افراد بوتلیں بیچتے ہوئے مین اسٹیج کے قریب مشکوک انداز میں پھر رہے تھے کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اتوار کے روز ہونے والے اس جلسے کے لیے مال روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں کو پی ٹی آئی کے پرچموں اور ہورڈنگز سے سجایا گیا تھا۔ مال روڈ کی جلسہ گاہ اتوار کی شام سے رات گئے تک پی ٹی آئی کے ترانوں سے گونجتا رہا۔ جلسہ گاہ میں موجود بچوں نے اپنے چہروں پر پی ٹی آئی کے پرچم بنا رکھے تھے جبکہ کئی خواتین نے پی ٹی آئی کے پرچم کے رنگوں والی ٹوپیاں پہن رکھیں تھیں۔ اسی پارٹی کے پرچم کے رنگوں والے لباس میں ملبوس ایک کردار ’چاچا پی ٹی آئی‘ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

Unruhen in Pakistan Islamabad

کئی خواتین نے پی ٹی آئی کے پرچم کے رنگوں والی ٹوپیاں پہن رکھیں تھیں

اس جلسے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے، 2 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کے علاوہ سفید کپڑوں میں پولیس سکیورٹی اہلکار اور ایلیٹ فورس کے ارکان بھی جلسہ گاہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ مال روڈ کو جانے والے کئی راستوں کو خار دار تاروں سے بند کر دیا گیا تھا۔ عمران خان کو جستی چادروں سے ڈھکے ایک خصوصی راستے سے جلسہ گاہ لایا گیا۔ سیکورٹی کے سخت ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں نے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اعجاز احمد چوہدری کو بھی شناخت کے بغیر جلسہ گاہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔

اتوار کے دن لاہور میں درجہ حرارت 43 سینٹی گریڈ تھا۔ اس شدید گرم موسم کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد جلسہ گاہ پہنچی۔ دہشت گردی کے خدشات کے باعث کیے جانے والے سیکورٹی اقدامات کی وجہ سے جلسہ گاہ کے قریب واقع چڑیا گھر کو اتوار کے روز بند رکھا گیا۔

اس جلسے سے پہلے مسلم لیگ کے رہنماوں پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق اور طلال چوہدری نے لاہور میں ایک طویل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ نواز شریف پر حملے کرکے اصل میں ملک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے بقول شریف خاندان اپنے اثاثوں کے فرانزک ٹیسٹ سے نہیں ڈرتا- ان کے بقول ایسے ٹیسٹ ماضی میں بھی کئی دفعہ ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے ترجمان نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ نون کو الزامات لگانے کی بجائے شریف فیملی پر اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب دینا چاہیے۔