1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف کے خلاف ایک نہیں تین مقدمات چلیں گے

پاکستان کے ایک جج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے تین مختلف مقدمات چلانے کے بجائے انہیں ایک کیس کے طور پر پرکھا جائے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پاکستانی عدلیہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف بدعنوانی کے تحت تین مختلف مقدمات کی کارروائی الگ الگ ہی کی جائے گی۔ نواز شریف کی وکلاء نے کورٹ سے اپیل کی تھی کہ ان کے اور ان کے اہلخانہ کے خلاف ان مقدمات کو ایک مقدمے کے طور پر دیکھا جائے۔

نواز شریف عدالت میں پیش ہو گئے، اگلی سماعت سات نومبر کو

نواز شریف کا دورہ سعودی عرب، ملک میں چہ میگوئیاں شروع

نواز شریف مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے واپس پاکستان میں

ایسوسی ایٹڈ پریس نے مقامی میڈیا کے حوالے سے آٹھ نومبر بروز بدھ بتایا ہے کہ جج محمد بشیر نے نواز شریف کی اس اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس پیش رفت سے نواز شریف کے خلاف مقدمات کا دورانیہ طویل ہو جائے گا اور یہ عمل کئی مہینوں تک پھیل سکتا ہے۔ 67 سالہ نواز شریف تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم منتخب کیے گئے تھے۔

پاکستانی سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو ایک طویل عدالتی کارروائی کے بعد رواں برس جولائی میں وزیر اعظم کے عہدے اور سیاست کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا۔  نوازشریف ان کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد محمد صفدر رقوم کی غیر قانونی طور پر ملک سے باہر منتقلی اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

نواز شریف اپنے اوپر عائد تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ بدھ کے دن عدالتی کارروائی کے بعد نواز شریف نے میڈیا کو بتایا کہ ان الزامات کو غلط ثابت کرنے کی خاطر پرعزم ہیں۔ جج محمد بشیر نے نواز شریف کے خلاف دائر کردہ تین ریفرنس اپیلوں کے تحت ان پر باضابطہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے مقدمے کی کارروائی پندرہ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

DW.COM