1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف کی ’بدلے ہوئے پاکستان‘ میں واپسی

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف دل کے آپریشن کے تقریباﹰ ڈیڑھ مہینے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ مگر بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وہ جس پاکستان میں واپس آئے ہیں وہ اس پاکستان سے بہت مختلف ہے جسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔

تجزیہ نگاروں کے بقول دیکھنا یہ ہے کہ صحت کی موجودہ صورتحال میں وزیراعظم نواز شریف نئے چیلنجز کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر(ر) فاروق حمید کے مطابق نواز شریف جس پاکستان میں لوٹ کر آئے ہیں اس ملک کے الیکشن کمیشن کے سامنے وزیر اعظم کے خلاف تین ریفرنسز دائر ہو چکے ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے قصاص کے مطالبے شدت اختیار کر چکے ہیں، پانامہ لیکس کے معاملے پر عمران خان حزب اختلاف کی کئی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا نے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی تیاریاں عروج پر ہیں۔

فاروق حمید کے مطابق کراچی کی صورتحال ایک مرتبہ پھر خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے، کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہوسکنے، آپریشن ضرب عضب میں مطلوبہ حکومتی تعاون نہ مل سکنے اور پاک بھارت حکومتی پالیسی کی وجہ سے سول ملٹری تعلقات میں پائے جانے والا تناؤ بھی ایک نئے چیلنج کی صورت میں نواز شریف کے سامنے ہے: ’’اقتصادی راہداری کے منصوبے کو درپیش چیلجز اس کے علاوہ ہیں۔ اس صورتحال میں بظاہر ہشاش بشاش اور تندرست نظر آنے والے وزیراعظم نواز شریف کو فالو اپ وزٹ کے لیے دوبارہ برطانیہ بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ کیا نواز شریف ان حالات میں پہلے کی طرح معمول کے مطابق سرگرمی کے ساتھ کاروبار مملکت چلا سکیں گے؟یہ ایک اہم سوال ہے۔‘‘

پاکستان مسلم لیگ نون کی رکن صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے نواز شریف سے حال ہی میں ملاقات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف مکمل طور پر روبصحت ہیں اور وہ امور مملکت چلانے کے لیے عنقریب اپنی معمول کی مصروفیات شروع کر دیں گے۔

ادھر لاہور کے علامہ اقبال ایئر پورٹ پر اترنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے گھر جاتی عمرہ چلے گئے۔ انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے میڈیا کا سامنا کرنے سے گریز کیا۔ اپنی مرضی سے بلائے گئے چند ایک منتخب صحافیوں کے ساتھ مختصر بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ وہ فرائض کی انجام دہی کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں اور ان کے بقول وہ قوم کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا، ’’دھرنا مسائل کا حل نہیں، ملک ترقی کر رہا ہے، اپوزیشن بھی عوام کی خدمت کرے اور ہمارا ساتھ دے۔‘‘

ڈاکٹر طاہرالقادری نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ماڈل ٹاون کے سانحے میں 14 بے گناہ انسانوں کی جان لینے والے حکمرانوں کو معاف نہیں کیا جائے گا

ڈاکٹر طاہرالقادری نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ماڈل ٹاون کے سانحے میں 14 بے گناہ انسانوں کی جان لینے والے حکمرانوں کو معاف نہیں کیا جائے گا

آج اتوار 10 جولائی کی صبح چند ارکان پارلیمنٹ پھولوں کے گلدستے لے کر وزیراعظم سے ملنے جاتی عمرہ پہنچے تھے۔ ان ارکان پارلیمنٹ کو کولڈ ڈرنکس سے تواضع اور پھولوں کے شکریے کے ساتھ ، یہ اطلاع دے کر واپس بھجوا دیا گیا کہ وزیر اعظم چند دن بعد سب سے ملاقاتیں کریں گے۔ وزیر اعظم نے اپنے قریبی رفقا سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے تازہ حالات کے بارے میں بریفنگ بھی لی۔

ادھر مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے نواز شریف کی ہدایت پر ان کی صحت یابی کی خوشی میں منائے جانے والے یوم تشکر کی تقریبات کو عبدالستار ایدھی کے لیے یوم دعا میں تبدیل کر دیا۔ اس حوالے سے ہونے والی تقریبات میں ایدھی صاحب کیے لیے دعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ نواز شریف کی صحت یابی پر شکرانے کے نوافل بھی پڑھے گئے۔

پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے آج اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر کہا کہ ماڈل ٹاون کے سانحے میں 14 بے گناہ انسانوں کی جان لینے والے حکمرانوں کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ان سے قصاص (خون کے بدلے خون) لیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کا خاتمہ عنقریب ہونے والا ہے۔

پاکستان کے ممتاز صحافی اور سینیئر کالم نگار ارشاد احمد عارف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ اس وقت سیاسی درجہ حرارت بہت بلند ہے اور نواز شریف کو بہت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ان کے بقول ان کی صحت کا مسئلہ ان کے کام میں اس لیے زیادہ رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گا کیونکہ وزیر اعظم پہلے ہی کچن کیبنٹ اور چند جونیئر بیوروکریٹس کے ساتھ ہی حکومت کرنے کے عادی ہیں، اسی طرح وہ اب بھی کام چلاتے رہیں گے۔ ارشاد عارف نہیں سمجھتے کہ وزیر اعظم کی سوچ میں اس علالت کے بعد کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں ارشاد عارف کا کہنا تھا، ’’ڈاکٹر طاہرالقادری اگرچہ بات درست کر رہے ہیں لیکن پچھلے دھرنے کے بعد ملک سے چلے جانے سے ان کی کریڈبیلیٹی بہت متاثر ہوئی تھی، انہوں نے اپنی ساکھ کی بہتری کے لیے بھی کوئی خاص کوششیں نہیں کیں اس لیے اب عوام ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔‘‘