1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف کو نا اہل قرار دئے جانے کا معاملہ سپریم کورٹ میں

قومی اسمبلی کے حلقہ 123میں ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے مسلم لیگی رہنما میاں نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نا اہل قرار دئے جانے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

default

سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اس سال مارچ میں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے اِس سلسلے میں دائر کی گئی ایک اپیل پر کارروائی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سوتیئیس میں ضمنی الیکشن روکنے کے احکامات جاری کر دئے ہیں۔

اپیل کی سماعت کرنے والی سہ رُکنی جیوری کی سربراہی کے فرائض سرانجام دینے والے جج موسیٰ لغاری نے اِس حلقے میں انتخابات روکنے کے احکامات پر فوری عملدرآمد کا اعلان کرتے ہوئے اِس اپیل پر سماعت تیس جون تک کے لئے ملتوی کر دی۔ جج نے نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر نواز شریف آج عدالت میں موجود ہوتے تو عدالت ممکنہ طور پر آج ہی فیصلہ بھی سنا سکتی تھی۔ تاہم نواز شریف کے وکیل اکرم شیخ کے مطابق مسلم لیگی قائد عدالت میں حاضر نہیں ہوں گے کیونکہ وہ مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران مقرر کئے گئے ججوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

اُس دوسری اپیل کی سماعت ملتوی کردی گئی ہے، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی انتخابی نا اہلی کا فیصلہ سنانے والے لاہور ہائی کورٹ کو دراصل اس بارے میں سماعت کا اختیار ہی نہیں تھا۔

ضمنی انتخابات میں جیت کی صورت میں نواز شریف نہ صرف تیسری مرتبہ ملک کا وزیر اعظم بننے کی کوشش کر سکتے ہیں بلکہ وہ صدر پرویز مشرف کو بھی زیادہ بہتر طور پر چیلنج کر سکتے ہیں، جنہوں نے نو سال پہلے اُن سے اقتدار چھینا تھا۔