1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف کا ڈونالڈ ٹرمپ کو تہنیتی فون، متن جاری

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس بات چیت کے جاری شدہ متن کے مطابق ٹرمپ نے نواز شریف اور پاکستانی عوام کی تعریف کی ہے۔

پاکستان اور امریکا کئی دہائیوں سے اتحادی ہیں تاہم دونوں ممالک کے تعلقات حالیہ برسوں کے دوران غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ امریکا کے یہ الزامات ہیں کہ پاکستان نے طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں۔ تاہم پاکستان کی طرف سے ان الزامات کی تردید کی جاتی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دفتر کی طرف سے بدھ 30 نومبر کی شب بتایا گیا کہ نوازشریف نے ٹرمپ کو ان کی جیت پر مبارکباد دی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا متن بھی جاری کیا گیا۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ’’صدر ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف آپ کی بہت اچھی ساکھ ہے۔ آپ لاجواب انسان ہیں۔ آپ حیران کُن کام کر رہے ہیں، جو ہر طرح سے نظر آ رہا ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے متن میں مزید کہا گیا ہے، ’’میں ہر وہ کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہوں اور تیار ہوں جو آپ دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مجھ سے چاہتے ہیں۔ یہ میرے لیے ایک اعزاز ہو گا اور میں ذاتی طور پر ایسا کروں گا۔‘‘

Muhammad Nawaz Sharif speaks at summit meeting for refugee crisis at the UN (picture-alliance/dpa/M.Graff )

’’نو منتخب صدر ٹرمپ نے یہ بھی باور کرایا کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ دیرپا اور مضبوط ذاتی تعلقات استوار کرنے کے بھی خواہشمند ہیں۔‘‘

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ’’تعمیری بات چیت کی کہ امریکا اور پاکستان مستقبل میں کیسے مضبوط باہمی اور تعمیری تعلقات قائم کریں گے۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’نو منتخب صدر ٹرمپ نے یہ بھی باور کرایا کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ دیرپا اور مضبوط ذاتی تعلقات استوار کرنے کے بھی خواہشمند ہیں۔‘‘

تاہم پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دفتر کی طرف سےجاری ہونے والے اس بات چیت کے متن کے مطابق ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم کو اس بات کی پیشکش بھی کی کہ وہ 20 جنوری کو ان کے صدارتی دفتر سنبھالنے سے قبل بھی انہیں کسی بھی وقت فون کر سکتے ہیں۔ بیان کے مطابق، ’’جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں جناب وزیراعظم تو مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں ایک ایسے شخص سے بات کر رہا ہوں جو طویل عرصے سے میرا شناسا ہے۔‘‘

نواز شریف کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کر لی۔ بیان کے مطابق: ’’مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس لاجواب ملک میں ضرور آنا چاہیں گے جو لاجواب لوگوں کی لاجواب جگہ ہے۔ براہ مہربانی پاکستانی لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں کہ وہ حیران کن لوگ ہیں اور میں جتنے بھی پاکستانیوں کو جانتا ہوں وہ غیر معمولی ہیں۔‘‘