1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف کا دورہ سعودی عرب، ملک میں چہ میگوئیاں شروع

سابق وزیرِ اعظم نوازشریف کی آج نیب عدالت میں عدم پیشی اور سعودی عرب میں ان کی شاہی خاندان کے افراد سے ملاقاتوں نے ملک میں ایک بار پھر این آر او یا کسی ممکنہ معاہدے کی افواہوں کو ہوا دی ہے۔

نیب نے نواز شریف کی عدم حاضری پر آج ان کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ وارنٹ کرپشن کے مقدمات کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں۔ نواز شریف کے خاندان نے آج بھی پیشی کے بعد مقدمات کے اندراج پر تنقید جاری رکھی۔ نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ یہ زیادتی نواز شریف کے خلاف نہیں ہو رہی بلکہ ایک نظریے کے خلاف ہو رہی ہے۔
نوازشریف کی عدم حاضری اور ان کے دورہء سعودی عرب کے حوالے سے ملک میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز نے اس تاثر کو غلط قرار دیا تھا کہ نواز شریف سعودی عرب سے پاکستان واپس نہیں آئیں گے اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم پاکستان آئیں گے۔ لیکن نواز شریف آج نہ ہی پاکستان آئے اور نہ ہی عدالت میں پیش ہوئے۔

نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری
کئی سیاسی مبصرین کے خیال میں سابق وزیرِ اعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی ڈیل ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے بیان نے اس طرح کی باتوں کو مزید ہوا دی ہے۔ ملتان میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے کہا،’’نواز شریف کے لئے پاکستان میں وہ جگہ ہے، جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا۔ نواز شریف فیصلہ کر لیں کہ وہ سعودی عرب جانا چاہتے ہیں یا کہیں اور۔‘‘
روزنامہ ڈان نے بھی آج اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ میاں صاحب کی سعودی عرب میں شاہی خاندان کے افراد سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ تاہم مسلم لیگ نون کا دعویٰ ہے کہ نہ ہی کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور نہ ہی ان ملاقاتوں کا کسی ڈیل سے کوئی تعلق ہے۔

شریف خاندان میں بڑھتے ہوئے اختلافات
پارٹی کی رہنما اور رکن پنجابِ اسمبلی عظمیٰ بخاری نے ان ملاقاتوں کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میاں صاحب اور ان کے گھرانے کے سعودی عرب کے شاہی گھرانے کے افراد سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ کلثوم نواز صاحبہ کی طبعیت خراب ہے اور سعودی شاہی گھرانے کے افراد نے اسی سلسلے میں میاں صاحب سے ملاقاتیں کیں ہیں۔ ان ملاقاتوں کا ڈیل ویل سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف کچھ لوگوں کے ذہن کی اختراع ہے۔‘‘

نواز، مریم اور صفدر پر فردِ جرم عائد: کیا یہ سیاسی انتقام ہے؟
انہوں نے کہا جو لوگ ڈیل کا دعوی کر رہے ہیں ۔ وہ ذرا تفصیلا ت بھی ہمیں بتادیں،’’اگر ہم ڈیل کر رہے ہیں تو اس کا دوسرا فریق کون ہے۔ اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ میاں صاحب کوئی ڈیل نہیں کر رہے۔ وہ مقدمات کا سامنا کریں گے اور بیگم صاحبہ کی طبیعت بہتر ہونے پر ملک بھی واپس آئیں گے۔‘‘
معروف تجزیہ نگار ڈاکڑ خالد جاوید جان کے خیال میں اس موقع پر ڈیل شاید مشکل ہو لیکن پاکستان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، ’’کیونکہ میاں صاحب نے یمن کے مسئلے پر سعودی عرب کو بہت سخت ناراض کیا تھا۔ سعودی حکمرانوں کو یہ امید نہیں تھی کہ میاں صاحب یمن کے مسئلے پر ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اس ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس حوالے سے میاں صاحب کی مدد نہیں کی لیکن یہ امکان موجود ہے کہ میاں صاحب کے ایک بار پھر سعودی حکمرانوں سے تعلقات بہتر ہو جائیں اور وہ ان کی مد د کریں۔ تاہم یہ مدد فوری طور پر نہیں آئے گی۔ میرے خیال میں میاں صاحب کو انتظار کے لئے کہا گیا ہے۔ اسی لئے وہ سعودی عرب سے واپس برطانیہ چلے گئے اور یہاں نہیں آئے۔‘‘

DW.COM