1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف پندرہ جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف پاناما پیپرز کے معاملے کی چھان بین کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے اور اپنے خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات کے سلسلے میں اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

Nawaz Sharif Pakistan Premierminister spricht in Frankreich (Getty Images/A.Jocard)

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملکی وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے ایک مقامی نشریاتی ادارے کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کو پاناما پیپرز کے معاملے کی تفتیش کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی طرف سے ایک خط مل گیا ہے، جس میں وزیر اعظم نواز شریف کو اس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔

کیا جے آئی ٹی متنازعہ بنتی جارہی ہے؟

پاکستان کے سیاسی درجہء حرارت میں مسلسل اضافہ

وزیراعظم نواز شریف کرپشن کیس، شفاف کردار ادا کریں گے، فوج

Pakistan Oberster Gerichtshof in Islamabad (Reuters/C. Firouz)

یہ جے آئی ٹی پأاکستانی سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی تھی

مریم اورنگ زیب نے بتایا، ’’وزیر اعظم کو یہ خط مل گیا ہے اور وہ اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔‘‘ اے ایف پی کے مطابق یہ خط، جس کی ایک نقل پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی ہے، جے آئی ٹی کے سربراہ کے دستخطوں کے ساتھ جاری کیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے جمعرات 15 جون کے روز پیش ہوں۔

ساتھ ہی پاکستانی سربراہ حکومت کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے وقت ’تمام متعلقہ ریکارڈ‘ بھی ساتھ لائیں۔

Symbolbild Panama Papers - Daten-Leak Steuerflüchtlinge (picture-alliance/maxppp/J. Pelaez)

اس مقدمے کی وجہ پاناما پیپرز میں شریف خاندان کا ذکر بنا

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں پر الزام ہے کہ انہوں نے پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے حقائق کی رو سے مبینہ طور پر بدعنوانی کی اور اس معاملے میں شریف خاندان کے آف شور بزنس کی وجہ سے وزیر اعظم کے ان کے عہدے سے محروم ہو جانے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔

اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یا جے آئی ٹی کے قیام کا حکم پاکستانی سپریم کورٹ نے اپریل کے مہینے میں دیا تھا۔ اس ٹیم میں ملکی اینٹی کرپشن محکمے کے اعلیٰ اہلکاروں کے علاوہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ اس کمیٹی کو اپنی چھان بین مکمل کر کے اپنی رپورٹ 60 دنوں کے اندر اندر پیش کرنا ہے۔

اس معاملے میں نواز شریف کے تین بچوں، بیٹی مریم نواز اور دونوں بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔ بنیادی معاملہ ان رقوم کے جائز ذرائع سے حصول کا تعین ہے، جن کے ذریعے شریف خاندان نے برطانوی دارالحکومت لندن میں متعدد آف شور کمپنیوں کے ذریعے کئی انتہائی قیمتی املاک خریدی تھیں۔

DW.COM