1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’نواز شریف پارلیمنٹ آ کر الزامات کا جواب دیں گے‘

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف پاناما پیپرز کے حوالے سے خود پر اور اپنے اہل خانہ پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کا جواب دینے کے لیے جمعے کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

پاناما پیپرز میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے اہل خانہ کا نام آنے کے بعد سے شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعظم کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے دونوں ایوانوں سے واک آؤٹ کر رکھا تھا۔

پاناما کی لاء فرم موزیک فونسیکا کی جمع کردہ خفیہ معلومات پر مشتمل پاناما پیپرز کے مطابق نواز شریف کے دونوں بیٹوں، حسن اور حسین نواز کے علاوہ ان کی بیٹی مریم نواز بیرون ملک تین آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ نواز شریف نے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کو تحقیقاتی کمیشن بنانے کے لیے خط لکھنے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم اپوزیشن کی جماعتوں نے خط کے ٹی او آرز کو مسترد کر دیا تھا۔

حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی نے ایوان زیریں اور ایوان بالا کے اجلاسوں سے پیر اور منگل کے روز واک آؤٹ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ نواز شریف ایوان میں پیش ہو کر اراکین کے سوالوں کے جوابات دیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اراکین اسمبلی کو بتایا، ’’وزیر اعظم جمعے کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہوں گے اور تمام الزامات کا جواب دیں گے۔‘‘ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ نواز شریف اپنے دورہ تاجکستان کی وجہ سے اسمبلی کے اجلاس میں اس سے پہلے شریک نہیں ہو سکتے تھے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما خورشید شاہ نے وزیر اعظم کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعے کے روز شامل ہونے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب تک نواز شریف پارلیمنٹ میں نہیں آتے، حزب اختلاف دونوں ایوانوں کا بائیکاٹ جاری رکھے گی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے نواز شریف کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ پاناما لیکس میں نواز شریف کے خاندان کا نام سامنے آنے کے بعد عمران خان مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ ان کی اور ان کے اہل خانہ کی مبینہ بدعنوانی کے بارے میں شفاف تحقیات ہو سکیں۔

’وزیر اعظم عوامی ہوتے تو عوام کے کہنے پر مستعفی ہو جاتے‘

ویڈیو دیکھیے 01:51

راحیل شریف نے جو کہا، وہ کر دکھایا

DW.COM

Audios and videos on the topic