1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف نے نظر ثانی اپیل دائر کر دی

سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست جمع کرا دی ہے، جس میں انہیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ اپنے اثاثے ظاہر نہ کرنے پر شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے فارغ ہونا پڑا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستان کی حکمران پارٹی مسلم لیگ نون کے حوالے سے بتایا ہے کہ معزول وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل نے پندرہ اگست بروز منگل تین مختلف دراخواستیں دائر کرائی ہیں۔

نواز شریف کی نااہلی سے جمہورریت مستحکم ہوئی ہے، عمران خان

’نواز شریف نے طبل جنگ بجا دیا‘

عبوری پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کون؟

اٹھائیس جولائی کو ملکی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے کنبے کے پاس موجود دولت کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے یہ ذمہ داری نیب کو سونپی گئی تھی۔

مسلم لیگ نون کے رکن جان اچکزئی نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ نواز شریف نے سپریم کورٹ کے حکم نامے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ہمارا حق ہے کہ ہم نظر ثانی کا مطالبہ کریں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ جان اچکزئی نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا وہی پانچ رکنی بینچ نظر ثانی کی ان درخواستوں کی سماعت کرے گا، جس نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

دوسری طرف سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد بھی اپنی سیاسی جماعت پر گرفت مضبوط رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے ایک اہم ساتھی خاقان شاہد خان کو وزیر اعظم کا عہدہ سونپ دیا ہے اور حقیقی طور پر تمام فیصلے وہ خود ہی کر رہے ہیں۔ ان ناقدین کے مطابق یوں نواز شریف ملکی عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش میں ہیں۔

نواز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے انہیں نااہل قرار دیے جانے کا فیصلہ دراصل پاکستان کے دو سو ملین افراد کی طرف سے انہیں دیے جانے والے ’مینڈیٹ کی بے حرمتی‘ ہے۔ مسلم لیگ نون کے ارکان کے مطابق تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والے نواز شریف ملکی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ نواز شریف نے عوامی حمایت کے لیے جلسوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

DW.COM