1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف عدالت میں پیش ہو گئے، اگلی سماعت سات نومبر کو

پاکستان کے نااہل قرار دے دیے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف جمعہ تین نومبر کو ایک احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ وہ جمعرات دو نومبر کو لندن سے ملکی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تھے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف آج تین نومبر کو ایک احتساب عدالت میں اپنے وکیل خواجہ حارث کے ہمراہ پیش ہوئے۔ سابق وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جا چکے تھے۔ وارنٹ گرفتاری کے تناظر میں انہوں نے پچاس پچاس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کرا دیے۔ ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم عدالت کی جانب سے دیا گیا تھا۔

نواز شریف مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے واپس پاکستان میں

نون لیگ کی لندن بیٹھک

نواز شریف کا دورہ سعودی عرب، ملک میں چہ میگوئیاں شروع

نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری

ان کے خلاف مقدمات کی اگلی سماعت اب سات نومبر کو ہو گی۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندے موجود تھے لیکن سابق وزیر اعظم نے اُن سے کوئی بات نہیں کی۔ اس موقع پر اُن کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کا کہنا تھا کہ جب تک عدالتیں کچھ لوگوں کے خوف سے آزاد نہیں ہوں گی، تب تک شفاف عدالتی کارروائی ممکن نہیں۔

پاکستان روانگی سے قبل لندن میں نواز شریف نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کی علالت کے باوجود ’بوگس‘ مقدمات کا سامنا کرنے واپس جا رہے ہیں۔ اس گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستانی نظام تضادات سے بھرا ہوا ہے اور اب اس میں تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔

Pakistan Anhänger des Ex-Premierministers Nawaz Sharif (Getty Images/AFP/A. Hassan)

نواز شریف اور اُن کے حامی کرپشن الزامات کی نفی کرتے ہوئے انہیں فوج کی حمایت یافتہ سیاسی سازش قرار دیتے ہیں

سابق پاکستانی وزیر اعظم لندن اپنی علیل اہلیہ کی عیادت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ لندن ہی میں قیام کے دوران اُن کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت بھی اُن سے مشاورت کے لیے جمع ہوئی تھی۔ نواز شریف اور اُن کے حامی ان الزامات کی نفی کرتے ہوئے انہیں فوج کی حمایت یافتہ سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔

پاکستانی سپریم کورٹ کی جانب سے رواں برس جولائی میں نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم کو کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے۔ یہ الزامات پاناما پیپرز کے اجراء کے بعد ایک طویل عدالتی کارروائی کے بعد سپریم کورٹ کی ہدایت پر احتساب عدالت نے عائد کیے ہیں۔ نواز شریف کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے علاوہ داماد کو بھی بدعنوانی کے مقدامات کا سامنا ہے۔

DW.COM