1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف طیارہ کیس میں بری، رہنماؤں اور وکلاء کی جانب سے خیرمقدم

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں بری کرتے ہوئے ان کو ملنے والی تمام سزائیں بھی کالعدم قرار دیں۔

default

یہ کیس نواز شریف کے پارلیمان تک پہنچنے میں آخری رکاوٹ تھا

جمعے کے روز جاری کئے گئے 55 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ طیارہ اغواء کئے جانے کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا اور یہ کہ اس مقدمے کی تفتیش میں نہ صرف قانونی پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا بلکہ وعدہ معاف گواہ بھی قانونی تقاضوں پر پورے نہیں اترے۔ فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا: ’’لارجر بینچ نے اس کیس کو کافی دنوں کے لئے سنا اور دونوں فریقین کو سننے کے بعد حتمی فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ استغاثہ طیارہ اغوا کیس میں میاں نواز شریف کے ملوث ہونے کے الزام کو ثابت نہیں کر سکا اس لئے اپیل منظور ہو گئی ہے‘‘۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت سندھ کی طرف سے نظر ثانی کی اپیل کا کوئی امکان نہیں جبکہ وکلاء رہنماؤں نے بھی عدالتی فیصلے کو قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی قرار دیا ہے ۔اس حوالے سے معروف وکیل اکرام چوہدری کا کہنا تھا :’’موجودہ عدالتی فیصلے سے ماضی میں دباؤ کے تحت، غیرقانونی اور غیرآئینی فیصلوں کو ختم کرتے ہوئے پاکستان میں قانون کی بالا دستی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔‘‘

دوسری طرف حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی نواز شریف کی رہائی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ سیکیرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمے کا خاتمہ ملک میں جمہوریت اور سیاست کےلئے مثبت اثرات کا حامل ہوگا۔ ادھر مسلم لیگ( ن) کے کارکنان اپنے قائد کے حق میں عدالتی فیصلے پر ملک بھر میں جشن منا رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی مسز تنویر نے کہا کہ موجودہ حالات میں نواز شریف کا پارلیمنٹ میں پہنچنا ناگزیر ہے۔

’’جب تک میاں نواز شریف پارلیمنٹ میں موجود نہیں ہوں گے ملک کو درپیش مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔ اس کے لئے اس آخری رکاوٹ کا خاتمہ ضروری تھا جو اللہ کے فضل و کرم سے سے دور ہوگئی ہے۔ اب ہماری خواہش ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آئیں اور اس ملک کے مسائل کو حل کریں۔‘‘

مبصرین کے خیال میں میاں نواز شریف کے خلاف مقدمات کے خاتمے کے بعد اب ان کا قومی اسمبلی میں پہنچنا یقینی ہے اور اس سے مسلم لیگ نواز بطور اپوزیشن پہلے سے زیادہ جاندار کردار ادا کرے گی جو مختلف معاملات پر حکومت کےلئے مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

رپورٹ : امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر