1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ نون کے صدر منتخب

کرپشن اسکینڈل اور سپریم کورٹ کی طرف سے برطرفی کے بعد نواز شریف کو پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کا دوبارہ سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس کے لیے گزشتہ روز پارلیمان نے ایک خصوصی بل منظور کیا تھا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر آئندہ چار برس کے لیے مسلم لیگ نون کا صدر بلا مقابلہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نون کی جنرل کونسل کے اجلاس میں آج اس کی توثیق بھی کر دی گئی ہے۔ منگل کے روز ان کو ایک ایسے وقت میں دوبارہ صدر منتخب کیا گیا ہے، جب ایک روز پہلے ہی پارلیمان نے ایک نیا بل منظور کیا تھا۔ اس بل کے مطابق عدالتوں سے نا اہل قرار دیے جانے والے افراد پارٹی عہدہ رکھنے کے اہل ہو گئے ہیں۔

اس سے پہلے قانون یہ تھا کہ جب عدالت کسی شخص کو نااہل قرار دے دیتی ہے تو اس کے پاس کوئی پارٹی عہدہ بھی نہیں رہتا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جولائی میں کرپشن اسکینڈل میں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا، جس کے بعد ان کے پاس پارٹی کی صدارت بھی نہیں رہی تھی۔

کہیں یہ بھی ن لیگ توڑنے کی کوشش تو نہیں؟

دوسری جانب پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس بِل کو عدالت میں چیلنج کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل صرف نواز شریف کو پارٹی کا دوبارہ صدر بنانے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ نون کا جنرل کونسل کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہوا۔ جب نواز شریف تقریر کرنے کے لیے آئے تو ان کا پارٹی کارکنان کی طرف سے پرجوش استقبال کیا گیا۔ نواز شریف کا اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مجھے بار بار اقتدار سے نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ مجھے پھر واپس لے آئے۔‘‘

نواز شریف کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

تقریب میں جب مسلم لیگ نون کے کارکن نعروں کے ذریعے ان سے محبت کا اظہار کر رہے تھے تو نواز شریف نے انگریزی زبان میں جواب دیتے ہوئے کہا ’آئی آلسو لو یو‘۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد کوئی پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا، یہ قانون پاکستان کے سابق حکمران پرویز مشرف نے بنایا تھا اور اسے ختم کرتے ہوئے یہ آج ان کے ’منہ پر واپس مار دیا‘ گیا ہے۔

DW.COM