1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شریف اور راحیل شریف سعودیہ پہنچ گئے

پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی سطح پر اپنی باضابطہ کوششوں کا آغاز کر دیا ہے اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی قیادت ایک اعلیٰ سطحی وفد سعودی عرب کے دارالحکومت پہنچ گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں آج پیر 18 جنوری کو وزیراعظم کے ہمراہ جانے والوں میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور قومی سلامتی کے مشیر لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ بھی شامل ہیں۔ پاکستانی وفد سعودی حکام سے ملاقاتوں کے بعد کل منگل 19 جنوری کو ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے لیے تہران پہنچے گا۔

پاکستانی وفد سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان سے ملاقات کرے گا جس کے بعد منگل کو وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے۔ پاکستانی دفتر خارجہ سے اتوار کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب اور ایران سے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پاکستان فکر مند ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے مسلم امہ کی یکجہتی کے عظیم مقصد اور خاص طور پر موجودہ مشکل حالات میں اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے رکن ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی پالیسی پر زور دیتا رہا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم کی قیادت میں اعلٰی سطحی وفد کی ایران اور سعودی عرب روانگی کو پاکستان کے مختلف حلقوں میں ایک مثبت قدم قرار دیا جارہا ہے۔

اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹدیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امتیاز گُل کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت وہ کردار ادا کر رہی ہے جس کا ان سے اندرون ملک تقاضہ کیا جارہا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ’’میرے خیال میں اس دورے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے کیونکہ پاکستانی قیادت سعودی عرب اور ایران دونوں کی قیادت کو یہ باور کرائے گی کہ دونوں ممالک کے درمیان جو ہو چکا وہ وہ چکا اور اب تحمل کی پالیسی اپنائی جائے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے پوری دنیا خصوصاﹰ اسلامی ممالک کے اندر ایک بے چینی پائی جاتی ہے۔ جو صورتحال ہے اس سے میرے خیال میں ایران اور سعودی عرب کو اپنے اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کا موقع بھی ملے گا۔‘‘

حال ہی میں سعودی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے پاکستان کے دورے کیے اور اعلٰی سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں

حال ہی میں سعودی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے پاکستان کے دورے کیے اور اعلٰی سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں

امتیاز گُل کے مطابق سعودی عرب اور ایران کی قیادت کو یہ بھی باور کرایا جائےگا کہ خطے میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال دونوں ممالک کے عوام کے لیے بھی خطرے کا سبب ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اس سال کے آغاز پر ایک شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کو سزائے موت دیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اور تہران میں سعودی سفارت خانے پر مظاہرین نے حملے کی کوشش بھی کی تھی۔

پاکستانی وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک قریب آئیں اور ان کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ قومی اسمبلی میں خارجہ امور کی کمیٹی کو ایک اِن کیمرہ بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان شام اور یمن کی صورتحال پر مؤقف میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف فرقہ ورانہ نہیں اور نہ ہی اسے فرقہ ورانہ رنگ دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہ کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا تی رہی ہیں۔ اس دوران صرف تین دن کے وقفے سے سعودی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے پاکستان کے دورے کیے اور اعلٰی سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔

حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستانی کی سول اور عسکری قیادت کا دو برادر اسلامی ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے متحرک ہونا ایک خوش آئند بات ہے۔ آج پیر کے روز مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت یہی بہتر طریقہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرانے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کو بہتری کی طرف لانے میں مدد ملے گی۔