1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز شريف کو سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دے دیا

پانامہ کیس میں پاکستانی سپريم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر نواز شريف کو نا اہل قرار دے ديا ہے۔ عدالت نے پاکستانی الیکشن کمیشن کو نواز شریف کی نا اہلی کا فوری طور پر نوٹیفیکشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپريم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے متفقہ طور پر نواز شريف کو وزير اعظم کے طور پر نا اہل قرار دے ديا ہے۔ عدالت نے  نواز شريف اور ان کے بچوں کے حوالے سے نيب ميں ريفرنس دائر کرانے کے احکامات جاری کيے ہيں۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو پابند کیا ہے کہ وہ چھ ماہ کے دوران فیصلہ سنائے ۔

قبل ازيں عدالت عظمیٰ نے لندن ميں اثاثوں اور  بيرون ملک دولت کے حوالے سے نواز شريف اور ان کے بچوں کے خلاف دائر کردہ پيٹيشنز سنيں۔ شريف خاندان کے بيرون ملک اثاثوں کے بارے ميں انکشافات گزشتہ برس منظر عام پر آنے والے پاناما پيپرز ميں سامنے آئے تھے۔ اپوزيشن نواز شريف پر الزام عائد کرتی ہے کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کرتے ہوئے بيرونی ممالک ميں دولت اکھٹی کی جس کی مدد سے بعد ازاں برطانوی دارالحکومت لندن ميں پراپرٹياں خريدی گئيں۔ نواز شريف کے خلاف پيٹيشن دائر کرانے والوں ميں پاکستان تحريک انصاف کے رہنما عمران خان، عوامی مسلم ليگ کے سربراہ شيخ رشيد اور جماعت اسلامی کے چيف سراج الحق شامل ہيں۔

نواز شريف ان الزمات کو رد کرتے آئے ہيں اور انہوں نے عدالت ميں يہ دلائل پيش کيے تھے کہ لندن ميں فليٹس ان کے بچوں کو قطر  ميں کی گئی سرمايہ کاری کے بدلے ٹرانسفر کيے گئے۔ اس معاملے کی  تحقيقات کے ليے سپريم کورٹ کے تين ججوں نے ’جوائنٹ انويسٹيگيشن ٹيم‘ تشکيل دی، جس کی رپورٹ کے بعد ہی اب يہ فيصلہ سامنے آيا۔

پاناما کيس پر فيصلہ پہلے سے اکيس جولائی کو محفوظ کيا جا چکا تھا اور اس کا اعلان آج سپريم کی پانچ رکنی بنچ نے کيا۔ بنچ کی سربراہی جسٹس آصف سعيد کھوسہ کر رہے ہيں جب کہ اس ميں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شيخ عضمت سعيد اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل ہيں۔

پاناما کيس کی حساسيت کو مد نظر رکھتے ہوئے دارالحکومت اسلام آباد اور ملک کےچند ديگر حصوں ميں سکيورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کيے گئے ہيں۔ بالخصوص اسلام آباد ميں سپريم کورٹ اور  اس کے آس پاس ہزاروں پوليس اہلکار تعينات ہيں۔ اس موقع پر عدالت عظمیٰ کی عمارت کے باہر پاکستان پيپلز پارٹی، مسلم ليگ نون اور ديگر سياسی جماعتوں کے کارکن بھی موجود ہيں۔

DW.COM