1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نواز اوباما ملاقات: کشمیر سمیت تمام امور پر مذاکرات ضروری

پاکستانی وزیر اعظم اور امریکی صدر کی جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں اتقاق کیا گیا کہ دونوں ملک خطے میں امن کے لیے مل کر کام کریں گے جبکہ امریکا نے بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور امریکی صدر باراک اوباما کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور بھی دیا گیا جبکہ صدر اوباما نے کہا کہ امریکا سرمایہ کاری، تجارت، تعلیم اور صحت سمیت کئی شعبوں میں پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا۔

تقریباﹰ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں امریکی صدر اوباما نے پاکستان کو عالمی امن کے لیے ایک اہم ملک قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور نواز شریف کی قیادت میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے۔ باراک اوباما نے قیام امن کے لیے پاکستانی فوج کے کردار کی بھی تعریف کی۔

ملاقات میں وزیر اعظم نواز شریف نے صدر اوباما کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور نہ ہی ملک میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کو پنپنے کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے اور لشکر طیبہ سمیت دیگر گروہوں کے خلاف بھی مؤثر کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کا دورہ امریکا انتہائی کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے امریکا سے کچھ نہیں مانگا۔‘‘ خواجہ آصف کے مطابق وزیر اعظم نے صدر اوباما کے سامنے پاکستان کے خلاف بھارت کی کارروائیوں کے علاوہ بھارت کے اندر مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا معاملہ بھی اٹھایا جبکہ امریکا نے خود اس بات کا اظہار کیا کہ اب پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی ان کے وطن واپسی شروع ہونی چاہیے۔

غیر متوقع طور پر اس ملاقات کے حوالے سے دس صفحاتی اعلامیہ ملاقات ختم ہونے سے پہلے ہی جاری کر دیا گیا لیکن تجزیہ کاروں کی رائے میں اس طرح کی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا اعلامیہ پہلے ہی طے کر لیا جاتا ہے۔

Indische Soldaten im Grenzgebiet zwischen Pakistan und Indien

ملاقات میں بھارت کی طرف سے کشمیر میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں پر بھی بات چیت کی گئی

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ ملاقات میں خطے خصوصاﹰ افغانسان میں امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا، جو ایک اہم پیش رفت ہے جبکہ کشمیر میں کنٹرول لائن یا ایل او سی کی بھارتی خلاف ورزیوں پر امریکی اظہار تشویش بھی بہت معنی رکھتا ہے۔ ان کے بقول دونوں رہنماؤں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات پر اتفاق رائے بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جمعرات کو قبل از دوپہر ہونے والی اس ملاقات میں جوکچھ بھی ہوا، اس کے لیے گراؤنڈ پاکستانی فوج کے ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کے دورے کے دوران تیار کی گئی تھی اور امریکا نے پاکستان کے جمہوری حکمرانوں کو ’آن بورڈ‘ رکھنے کے لیے اعلانات بھی کیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق معاملات کو حتمی شکل مستقبل قریب میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورہء امریکا کے دوران دی جائے گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے منسلک کالم نگار وسعت اللہ خان نے وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اب امریکی صدر کے سامنے ’بھارتی حرکتوں‘ کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ ’’اس پر توقع تھی کہ امریکا بھارت کو کچھ تو کہے گا، مگر سوائے پرانے بیان کے کچھ نہیں کہا گیا۔ اس سے بہتر تو گزشتہ ماہ بھارتی اور امریکی وزرائے خارجہ کی ملاقات کا اعلامیہ تھا، جس سے محسوس ہو رہا تھا کہ اعلامیہ بھارتی دفتر خارجہ نے تحریر کیا تھا، جس پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی دستخط کر دیے تھے۔‘‘ اس اعلامیے میں بھارت نے ممبئی حملوں میں پاکستان کا نام لے کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

وسعت اللہ خان نے بھی تاہم نواز اوباما ملاقات سے متعلق جاری کردہ اعلامیے میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو اور قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار کو جاری رکھنے کے عہد کو خوش آئند قرار دیا۔