1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نوازشریف کی وطن واپسی، پاناما لیکس طوفان ابھی گزرا نہیں

علالت کے بعد علاج کے لیے برطانیہ جانے والے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف وطن واپس لوٹ رہے ہیں، تاہم پاناما پیپرز میں ان کے اہل خانہ کے ناموں کی وجہ سے ان پر موجود دباؤ اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔

2013ء میں اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت مختلف بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے، سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ، پیپلز پارٹی سے نون لیگ کی قربت ، وزیرستان میں آپریشن میں تاخیر، پنجاب میں دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں پر نون لیگ کی خاموشی اور ترقیاتی کاموں میں مبینہ کرپشن کی داستانوں نے عسکری اور سیاسی قیادت میں دوریاں پیدا کیں۔ نواز حکومت نے ان تمام چیلنجوں سے نمنٹے کی بھرپور کوشش کی لیکن پاناما انکشافات نے ایک بار پھر نوازشریف کی حکومت کو خدشے سے دوچار کر دیا ہے۔ ان انکشافات میں یہ بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کے صاحبزادوں نے سمندر پارکمپنیاں قائم کیں جب کہ ان دستاویزات میں لندن میں اربوں روپے کی مالیت کی جائیدادوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔

ان جائیدادوں کے حوالے سے شریف خاندان کے متضاد بیانات نے بھی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ حزب اختلاف کی ایک جماعت پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں ایک آزاد کمیشن کا مطالبہ کیا ہے جب کہ حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی بھی نون لیگ پر برسنے کے لیے تیار نظر آرہی ہے۔

Pakistan Ministerpräsident Sharif und Armeechef Sharif weihen Autobahn ein

نواز شریف حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی خبریں پھر سے گرم ہیں


جب پاناما لیکس کے انکشافات منظر عام پر آئے تو اس کے کچھ ہی دن بعد وزیرِاعظم پاکستان نے ایک جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت کے دو سربراہوں نے اس کمیشن کی سربراہی کرنے سے معذرت کر لی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اعلیٰ عدالت کے ایک ریٹائرڈ جج سرمد جلال عثمانی نے کمیشن کی سربراہی کرنے کی مشروط حامی بھری لیکن حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اِسے مسترد کر دیا۔ آج منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری نے ایک درخواست دائر کی، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ پاناما لیکس میں وزیرِ اعظم کا نام آنے سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اس لیے وزیرِ اعظم سے استعفیٰ لینے کے لیے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے۔ تاہم عدالت نے یہ درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی۔
لیکن درخواست کی واپسی وزیرِ اعظم کے لیے کوئی خوشخبری نہیں کیوں کہ سیاسی محاذ پر نون لیگ کے خلاف ایک نیا طوفان کھڑا ہونے جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ’’یہ موجودہ حکومت کے لیے اب تک آنے والوں بحرانوں میں سب سے بڑا بحران ہے۔ اگر حکومت نے ایک آزاد اور غیر جانبدار کمیشن نہیں بنایا تو اس کے لیے بہت سے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ سیاست میں حکومت کرنے کے لیے اخلاقی جواز بہت ضروری ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا وہ جواز بہت کمزور ہوگیا ہے۔‘‘
معروف قانون دان احمد رضا قصوری نے DWسے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے حکومت کا بوریا بستر گول ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پوری دنیا میں آپ سرمایہ کاروں کو پاکستان آکر پیسہ لگانے کی ترغیب دیں اور آپ کے بیٹے ٹیکس بچانے کے لیے آف شور کمپنیاں بنائیں۔ میرے خیال میں اس ساری صورتِ حال میں ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کا قیام عمل میں آسکتا ہے، جس میں اچھی شہرت والے افراد کو لیا جائے گا اور اس حکومت کو فوج کی حمایت بھی ہوگی۔‘‘
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر امان میمن نے DW سے گفتگو میں کہا، ’’موجودہ صورت حال نے حکومت کے لیے سخت مشکلات پید اکردی ہیں، اس بات کا قوی امکان ہے کہ عمران خان اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو وسط مدتی انتخابات کی طرف لے جائیں گے کیوں کہ وہ وزیرِ اعظم بننے کے لیے تاب ہیں اور پانامالیکس ان کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتی ہے۔‘‘