1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ننھے ایلان سکون سے سو جاؤ‘

ایلان کی موت پر ڈی ڈبلیو اردو کے فیس بُک صارفین کے احساسات اور دلی جذبات ایک نظر میں۔

تین سالہ شامی بچے ایلان کی دکھ بھری موت نے دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے ہر اُس انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے، جس کے سینے میں دِل دھڑکتا ہے۔ ڈوئچے ویلے اردو کے فیس بُک صارفین نے ایلان کی موت پر کی جانے والی رپورٹوں اور تبصروں پر اپنے اپنے انداز میں اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے کچھ تحریروں میں لکھنے والوں نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے۔ انہی میں سے کچھ منتخب تحریریں ہم اپنے قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

صاحبزادہ فاخر مہاروی نے ننھے ایلان کی اپنی والدہ اور چار سالہ بھائی غالب کے ساتھ تدفین سے متعلق رپورٹ پر لکھا ہے:

اپنے حقیقی وطن واپسی ہو گئی۔ سب ملکوں نے اپنے دروازے بند کر لیے تو اپنی دھرتی ماں نے اپنا دامن بچھا کر واپس بلا لیا۔ ننھے ایلان سکون سے سو جاؤ کہ اب تمہیں کوئی خوف نہیں، اب تمہیں تمہارے وطن سے کوئی نہیں نکالے گا۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ایلان کی تصویر سے متعلق ڈوئچے ویلے کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر الیگزنڈر کوڈا شیف کے دلگداز تبصرے پر حسان بن محمد نے ڈی ڈبلیو اردو کے فیس بُک پر اپنے احساسات کا اظہار کچھ یوں کیا ہے:

آج مجھے یہ تصویر کچھ جانی پہچانی سی لگی۔

کیونکہ اس بچے کے سونے کا اسٹائل میرے دو سالہ بیٹے محمــد بن حســان جیسا تھا۔

مجھے لگا کہ یہ میرا بیٹا ہی سو رہا ہے۔
لیکن،
کچھ عجیب ضرور تھا۔
وہ نرم و گداز بستر کی بجائے کھلے سمندر کے کنارے پہ تھا۔
نہیں، نہیں، یہ میرا بیٹا محمــد نہیں تھا۔
لیکن،

پھر یہ کس کا لخت جگر تھا؟
تصویر بہت کچھ بتا رہی تھی۔

تفصیل میں گیا تو پتا چلا،

کہ شام میں جاری ظلم سے بچنے کے لیے سمندر کے راستے ہجرت کرنے والے خاندان کا لخت جگر ہے۔ پورا خاندان ہجرت کے راستے سمندر کی لہروں کی نذر ہو گیا۔
مجھے شاک لگا اور نہایت بجھے دل کے ساتھ گھر آ گیا۔
لیکن،

جیسے ہی اپنے ایئرکنڈیشنڈ بیڈ روم میں داخل ہوا، تو مجھے کمرے میں جلتے نائٹ بلب کی روشنی میں اپنے بچے سکون سے سوتے نظر آئے۔
اپنے بیٹے محمــد کو بالکل ویسے ہی سوتا دیکھا۔
بس پھر کیا تھا، میری آنکھوں سے گرم گرم آنسو میرے چہرے کو بھگوتے چلے گئے۔
میری آنکھوں کے سامنے اس شامی بچے کی تصویر تھی اور سامنے میرا بیٹا اسی انداز میں سو رہا تھاـ
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ شکر کروں، یا ماتم کروں؟
ایک ہی امت کے یہ معصوم بچے لیکن ایک نرم و گداز بستر پہ اور ایک کھلے سمندر کے کنارے مردہ حالت میں۔
آخر اس شامی بچے کا قصور کیا تھا؟
اے ارض شام کے محمد،
کسی ماں باپ کے لخت جگر،

ہم اپنی زندگیوں میں مگن ہیں، اپنے گھروں میں، اپنی دکانوں میں،
ہم تمہاری مدد کو نہیں آ سکتے، ہم بہت مصروف ہیں۔

اس لیے،
ہم شرمندہ ہیں، ہم شرمندہ ہیں۔

لیکن کیا واقعی، ہم شرمندہ ہیں؟

ڈی ڈبلیو کے چیف ایڈیٹر کی لکھی تحریر پر ہی اپنے ایک تبصرے میں علی عمران نے اپنے دلی جذبات کے اظہار کے لیے آزاد نظم کا سہارا لیا ہے۔

یونہی تو نہیں تجھے ڈبویا ہوگا
ڈبو کر تیرا ننھا وجود
خود سمندر بھی تو ٹوٹ کے رویا ہوگا
بپھرتی ہوئی موجوں نے پھر
چھین کر سمندر سے تجھے
کچھ دیر تو اپنی آغوش میں چھپایا ہوگا
کیسے دکھ سے پھر تجھے ساحل پہ اچھالا ہو گا

شاہ زیب بیگ نے معصوم ایلان کے لیے ایک پیغام کی صورت میں اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انگریزی زبان میں دیے گئے ان کے پیغام کا متن اردو میں پیش ہے:

’’اچھی طرح سو لو پیارے ایلان اور جس قدر دور تک چاہو، پرواز کرو۔ مگر اے ننھے فرشتے، مجھ سے ایک وعدہ کرو کہ جب جنت میں پہنچو تو خدا کو انسانوں کے بارے میں سب کچھ بتانا۔ خدا کو بتانا کہ زمین اب تم جیسے بچوں کے رہنے کے قابل نہیں رہی۔ خدا کو بتانا کہ زمین پر انسان اس کے نام پر انسانوں کے سر قلم کرتے ہیں۔ خدا کو بتانا کہ صبح جب تمھاری ماں نے تمہیں سرخ شرٹ اور نیلی نیکر پہنائی تو اس نے تمہیں بتایا تھا کہ تم ایک ایسی جگہ جا رہے ہو، جہاں جنگ نہیں ہو گی، جہاں تم بموں کے خوف کے بغیر کھیل سکو گے اور گولیوں کی خوفناک آوازوں کے بغیر سو سکو گے۔ خدا کو بتانا کہ اگر سمندر تمھارے وطن سے زیادہ محفوظ نہ ہوتا تو تمھاری والدہ تمہیں ہرگز ربڑ کی کشتی میں سوار نہ کراتی۔ خدا کو بتانا کہ زمین پر انسان تو بہت ہیں مگر انسانیت نہیں ہے۔ خدا کو سب کچھ بتانا، مجھ سے وعدہ کرو کہ خدا کو سب کچھ بتاؤ گے۔‘‘