1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ننکانہ صاحب میں کشیدگی برقرار

پاکستان میں سکھوں کے مقدس مقامات کے حامل تاریخی شہر ننکانہ صاحب میں صورت حال اب تک کشیدہ ہے اور اس مرتبہ اس کشیدگی کی وجہ مذہبی عدم رواداری نہیں بلکہ کرپشن اور حکومتی نا اہلی بتائی جا رہی ہے۔

شہر میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کے جواب میں سامنے آنے والے ردعمل کے نتیجے میں پاکستان میں اقلیتوں کی جائیدادوں اور زمینوں کی دیکھ بھال کرنے والے ادارے متروکہ وقف املاک بورڈ کے مقامی دفتر کو آگ لگائی جا چکی ہے۔ بیشتر ریکارڈ اور پانچ موٹر سائیکلوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 10 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں، جن میں ایک انسپکٹر سمیت چھ پولیس والے بھی شامل ہیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے دوسرے اضلاع سے مزید نفری منگوائی جا رہی ہے اور شہر میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ تقسیم ہند کے بعد جو غیر مسلم لوگ پاکستان چھوڑ کر بھارت چلے گئے تھے ان کی جائیدادوں، زمینوں اور عبادت گاہوں کی دیکھ بھال متروکہ وقف املاک بورڈ نامی ایک وفاقی ادارہ کرتا ہے۔ اس ادارے کے سربراہ اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما صدیق الفاروق نے لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا ادارہ اقلیتیوں کی ملکیت 19000 ایکڑ زمین کی دیکھ بھال کر رہا ہے، لیکن ملک کے بعض علاقوں میں اقلیتوں کی اس زمین پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ ان کے بقول لاہور سے سو کلو میٹر دور واقع سکھوں کے مقدس شہر ننکانہ صاحب میں بھی اس ادارے کی زمینوں پر قبضہ گروپوں نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور اس علاقے کا ایک مسلم لیگ نون سے ہی تعلق رکھنے والا ایک ایم پی اے ذوالقرنین ڈوگر ان قبضہ گروپوں کی سرپرستی کر رہا ہے اور یہی شخص اقلیتوں کی زمینوں پر قبضہ چھڑانے کی کوششوں میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ذوالقرنین ڈوگر کا تعلق ممتاز عالم دین پروفیسر ساجد میر کی جماعت جمیعت اہلحدیث سے رہا ہے۔ جمعیت اہلحدیث کے ترجمان کے مطابق ذوالقرنین ڈوگر کو مسلم لیگ نون کا ٹکٹ نون لیگ کی اتحادی جماعت جمیعت اہلحدیث کی سفارش پرہی ملا تھا اور انہیں مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ذوالقرنین ڈوگر پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیں اور ان کے درست ہونے کی صورت میں ان کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہیے۔

ادھر صدیق الفاروق نے مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ایم پی اے ذوالقرنین ڈوگر کی سرپرستی میں قبضہ گروپوں کی قانون شکن کارروائیوں کی اطلاع آئی جی پنجاب اور ہوم سیکریٹری کو کر دی ہے۔ ادھر پنجاب کے چیف منسٹر شہباز شریف نے بھی مسلم لیگی ایم پی اے کے ایما پر اقلیتوں کی زمین ہتھیانے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 10 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں، جن میں ایک انسپکٹر سمیت چھ پولیس والے بھی شامل ہیں

پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 10 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں، جن میں ایک انسپکٹر سمیت چھ پولیس والے بھی شامل ہیں

ننکانہ صاحب کے ایک رہائشی عبدالشکور نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ہفتے کی صبح متروکہ وقف املاک بورڈ کے درجنوں اہلکاروں نے کسی نوٹس کے بغیر پولیس کی بھاری نفری کے ہمرا کرمانوالا چوک میں واقع اس کے ماموں کے گھر پر دھاوا بول دیا، ’’پہلے انہوں نے دوکانیں گرانا شروع کیں پھر وہ گھر میں گھس گئے۔ انہوں نے احاطے سے مویشی بھی کھول کر باہر نکال دیے اور اس آپریشن میں شریک مرد اہلکاروں نے، گھر پر موجود خواتین کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی۔ اس پر خواتین کی چیخ و پکار سن کر محلے کے لوگ اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے پولیس کو خواتین سے ہاتھا پائی سے روکنا چاہا لیکن پولیس اور بورڈ کے لوگوں نے محلے داروں کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ میرے ماموں کو گولی لگی وہ اس وقت ہسپتال میں ہیں۔ اس طرح لوگ مشتعل ہو گئے اور ان کے احتجاج نے پُرتشدد صورت اختیار کر لی۔‘‘

محمد اسلم نامی ایک شہری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ننکانہ صاحب ایک ماڈل سٹی ہے، ہر سال ہزاروں غیر ملکی اس شہر میں دنیا بھر سے آتے ہیں۔ اس شہر کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ اس علاقے میں ساری زمین متروکہ وقف املاک بورڈ کی ہے۔ بورڈ کا عملہ پہلے رشوت لے کر گھر تعمیر کرنے کی اجازت دے دیتا ہے پھر بعد میں اوپر سے دباؤ آنے پر یہ گھر گرا دیتا ہے۔‘‘

متعدد لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کچھ عرصہ پہلے مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی رائے منصب علی خان کی وفات کے بعد یہاں ہونے والے ضمنی الیکشن میں رائے منصب کی صاحبزادی نے مسلم لیگ نون کے امیدوار کی حیثیت سے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا تو ووٹوں کے حصول کے لیے ذوالقرنین ڈوگر سمیت مسلم لیگ نون کے کئی دیگر رہنماوں نے بطور سیاسی رشوت لوگوں کو بورڈ کی زمینوں پر قبضوں کی اجازت دی۔ ڈی ڈبلیو کی طرف سے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود ایم پی اے ذوالقرنین ڈوگر نے اپنا مؤقف دینے سے گریز کیا۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بعض لوگ پچھلی کئی دہائیوں سے بورڈ کی زمینوں پر قابض ہیں لیکن حکومتی جماعت یا مقامی منتخب نمائندوں کے ساتھ سیاسی وابستگی رکھنے والے قبضہ گروپوں کے خلاف عام طور پر قانون زیادہ حرکت میں نہیں آتا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اب مسلم لیگ نون پنجاب میں ممکنہ فوجی آپریشن کے آغاز سے پہلے ایسے آپریشن کر کے اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کرنا چاہتی ہے۔ مدبر نامی ایک نوجوان کے بقول ایسے آپریشنوں کے ذریعے قبضے تو ختم نہیں ہوتے البتہ محکمے کی رشوت کا ریٹ بڑھ جاتا ہے۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کئی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرین پر پولیس تشدد کی مذمت کی ہے۔ انتظامیہ اور انجمن مزارعین دونوں کی طرف سے اندراج مقدمہ کے لیے درخواستیں تیار کر لی گئی ہیں تاہم ہفتے کی شام تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔