1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

نمک کم تو 'دل' مضبوط

غذا میں نمک کی مقدار میں کمی کا براہ راست اثر انسانی صحت پر مثبت تبدیلیوں کی صورت میں پڑتا ہے۔ امریکی ریاست نیویارک کا محکمہ صحت ان دنوں دل کے امراض پر قابو پانے کے حوالے سے ایک تشہیری مہم چلا رہا ہے۔

default

عمومی طور پر بازار میں بکنے والی اشیاء میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے

اس مہم میں نمک کے استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل کے حوالے سے عوامی آگہی میں اضافے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نیویارک محکمہ صحت کے مطابق ریستورانوں اور ڈبہ بند خوراک میں نمک کا استعمال کی شرح گھر میں پکے ہوئے کھانوں کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ نمک کی مقدار جسم میں بڑھنے کا سب سے پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسانی جسم میں دوران خون تیز ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ انسان کو ہائی بلڈ پریشر کی بیماری میں مبتلا کردیتا ہے۔ ہائی بلڈپریشر دل کے دورے اور اسٹروک کی سب سے اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

Biotechnologin untersucht auf Legionärskrankheit

اس مہم کے تحت پانچ برسوں میں نمک کے استعمال میں 20 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور غذا میں نمک کی مقدار کا براہ راست تعلق ہے اور اسی بنیاد پر اس مرض میں مبتلا مریضوں کو نمک کی کم سے کم مقدار استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ چند ادویات ایسی ہیں، جو جسم میں بلڈ پریشر کے اسباب کے خلاف مدافعت میں اضافہ کرتی ہیں مگر پھر بھی مختلف تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اگر نمک کا استعمال نصف کیا جائے تو بلڈ پریشر میں بھی واضح کمی ریکارڈ کی جاتی ہے۔

ایک عام صحت مند آدمی کی غذا میں روزانہ تقریبا 10 سے 16گرام سوڈیم کلورائیڈ شامل ہوتا ہے اور اگر غذاﺅں میں نمک استعمال کم کیا جائے تو اس مقدار کو گھٹا کر 2سے 4گرام تک کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا مریض چوبیس گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ 5سے 6گرام نمک استعمال کرسکتے ہے۔

نیویارک صحت انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس مہم کے تحت ڈبہ بند غذاؤں، رستورانوں اور عوام میں نمک کے استعمال کے خلاف شعور میں اضافہ کرتے ہوئے اگلے پانچ برسوں میں نمک کے استعمال میں بیس فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس ہدف کو پورا کرنے کی صورت میں ایک طرف تو ہزاروں قیمتی جانیں بچیں گی جبکہ ساتھ ہی صحت عامہ کے شعبے میں اربوں ڈالر کی بچت بھی ہو گی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : کشور مصطفیٰ