1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

نمک ڈیٹا ذخیرہ کرنے کے لیے بھی مفید

سنگاپور کے سائنسدانوں نے جمعے کے روز کہا ہے کہ انہوں نے ایک نیا طریقہ دریافت کیا ہے، جس کے ذریعے خوردنی نمک کا استعمال کر کے کمپیوٹر ہارڈ ڈسک کو زیادہ معلومات ذخیرہ کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

default

سائسندانوں کے مطابق عام نمک کا استعمال کر کے موجودہ ڈسک کو تین اعشاریہ تین ٹیرا بائیٹ فی انچ گنجائش کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق سنگاپور کے قومی تحقیقی انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی، نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور اور ڈیٹا اسٹوریج انسٹیٹیوٹ کی مشترکہ کاوش ہے۔

اپنی تحقیق کے نتائج پہلی مرتبہ جاری کرتے ہوئے سنگاپور کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نئے طریقے کی مدد سے موجود ڈسک ہی میں چھ گنا زیادہ معلومات ذخیرہ کی جا سکیں گی۔

جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو ہارڈ ڈرائیو اس وقت ایک ٹیرا بائیٹ ڈیٹا ذخیرہ کر سکتی ہے، اس طریقے کی مدد سے اسی حجم میں چھ ٹیرہ بائیٹ معلومات جمع کی جا سکیں گی۔

تحقیق کی تفصیلات بتاتے ہوئے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نیا طریقہ سفر کے وقت کپڑے کسی سوٹ کیس میں رکھنے کے طریقے پر وضع کیا گیا ہے، جس میں کپڑوں کی کئی تہیں بنائی جاتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طریقے سے معلومات کی چھ تہیں بنائی جا سکیں گی۔

سائنسدانوں کے مطابق bit patterning نامی طریقے میں سائسندان اب تک Bits معلومات کی بیرونی حجمی لکیر دیکھنے سے قاصر تھے اور اسے کسی تصویر کی طرح کاغذ پر اتارا نہیں جا سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نہایت مختصر جسامت کے معلوماتی پیکٹوں، جنہیں بِٹس کہا جاتا ہے کہ تہہ نہیں بنائی جا سکتی تھی۔ تاہم خوردنی نمک کا محلول استعمال کر کے باآسانی بٹ ڈیٹا کی آؤٹ لائن پرنٹ کی جا سکتی ہے۔

اس تحقیق میں شامل سائنسدان Joel Yang نے کہا، ’پہلے ڈیٹا بٹس کی تصویر لی جاتی تھی، تو اس کی آؤٹ لائن یا بیرونی لکیر خاصی مبہم سی دکھائی دیتی تھی، تاہم نمک کے محلول سے یہ تصویر انتہائی واضح اور شفاف دیکھی جا سکتی ہے۔‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: حماد کیانی

DW.COM