1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

’نمونیے کی دوا کی قیمت کم کی جائے‘

طبی امداد کے بین الاقوامی ادارے نے نمونیے کی دوا کی قیمت میں کمی کی اپیل کی ہے۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے دوا کی قمیت میں کمی کی پٹیشن پر ہزار ہا لوگوں کے دستخط کروائے ہیں۔

یہ پٹیشن بین الاقوامی دوا ساز ادارے فائزر کو پیش کی گئی ہے۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی جانب سے ہزاروں دستخطوں والی پٹیشن میں دوا ساز ادارے سے استدعا کی گئی ہے کہ غریب بچوں کے لیے نمونیے سے بچنے کی مدافعتی ویکسین بہت مہنگی ہے لہذا اِس میں رعایت کی جائے۔ اِس پٹیشن نے امریکی دوا ساز ادارے سے کہا ہے کہ وہ ضرورت مند بچوں کو فراہم کی جانے والی ویکسین کی قیمت کو کم کرتے ہوئے پانچ ڈالر مقرر کر دے۔

ایسی ہی ایک اور پٹیشن گلیکسو اسمتھ کلائن کو بھی پیش کی گئی ہے کیونکہ یہ بھی نمونیے سے مدافعت کی ویکسین تیار کرتی ہے۔ فائزر کمپنی کا ہیڈکوارٹر امریکی شہر نیویارک میں واقع ہے جبکہ گلیکسو اسمتھ کلائن کا صدر دفتر برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم ہے۔ فائزر کمپنی کی ویکسین کی قیمت دس ڈالر ہے اور لندن میں واقع دوا ساز ادارے کی ویکسین نو ڈالر میں دستیاب ہے۔ امریکی کمپنی کو پٹیشن ایسے وقت میں پیش کی گئی ہے جب آج اٹھائیس اپریل سے اُس کے حصہ داروں کی میٹنگ شروع ہونے والی ہے۔

Liberia Catherine Browne mit Baby

افریقی ملکوں میں بے بہا بچے نمونیے میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں

آج کل نمونیے سے بچاؤ کی ویکسین رعایتی قیمت پر پچپن ملکوں میں دستیاب ہے، ان ملکوں کو یہ ویکسین ترقی یافتہ اور امیر ملکوں کے فراہم کردہ خصوصی فنڈ سے حاصل کر کے تقسیم کی جاتی ہے۔ اِس تقسیم کی نگرانی ایک ادارہ گلوبل آلائنس برائے ویکسین اور امیونائزیشن (GAVI) کرتا ہے۔ رعایتی قیمت پر ویکسین جن پچپن ملکوں کو فراہم کی جاتی ہے، ان میں پاکستان، کینیا اور میانمار بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے مطابق دنیا بھر میں ایسے انتہائی غریب خطے موجود ہیں جو ویکسین خریدنے کی استطاعت نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق نمونیا بخار کی لپیٹ میں آ کر دنیا بھر میں نو لاکھ بیس ہزار بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے ترجمان گریگ ایلڈر کا کہنا ہے کہ فائزر اور جی ایس کے نے ویکسین کے لیے قیمت زیادہ رکھی ہوئی ہے اور لاکھوں بچے عدم دستیابی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس پٹیشن کے جواب میں فائزر دوا ساز ادارے کا کہنا ہے کہ اُس کی دوا میں قیمتی اجزا استعمال ہونے کے علاوہ ایک معقول وقت میں تیار ہوتی ہے اور اِس تناظر میں قیمت جائز ہے۔ کمنپی کے مطابق ایک خوراک کے لیے تقریباً ڈھائی برس کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور ایک وقت میں کئی ریسرچر اِس عمل میں مصروف رہتے ہیں۔