1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نقاب ناکافی ہوا تو گاڑی ضبط

ایرانی دارالحکومت تہران میں آئندہ ہیڈ اسکارف کے بغیر یا ناکافی نقاب کے ساتھ گاڑی چلانے والی خواتین کی گاڑیاں ضبط کر لی جائیں گی۔ یہ بات تہران کی ٹریفک پولیس کے سربراہ جنرل تیمور حسینی نے آج بدھ دو ستمبر کے روز بتائی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے آج جنرل تیمور حسینی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’جن خواتین ڈرائیوروں کو ننگے سر یا ناکافی نقاب کے ساتھ گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا جائے گا، ان کی گاڑیاں قانون کے مطابق ضبط کر لی جائیں گی۔‘‘

تیمور حسینی نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں جن خواتین کی گاڑیاں پولیس کی طرف سے ضبط کی جائیں گی، انہیں یہ گاڑیاں بعد ازاں ضروری کارروائی کے بعد اور محض متعلقہ عدالت کے حکم پر ہی واپس کی جائیں گی۔

ایران میں 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے پورے ملک میں عوامی سطح پر خواتین کے لیے نقاب پہننا لازمی ہے۔ لیکن گزشتہ چند عشروں کے دوران عوامی مقامات پر خواتین کے لباس سے متعلق ضوابط میں ایک بتدریج اور غیر اعلانیہ نرمی دیکھنے میں آئی ہے اور اب خاص کر ملکی دارالحکومت تہران میں خواتین اس طرح کے لباس میں بھی ملبوس نظر آتی ہیں کہ اس لباس کا خواتین کے لیے سرکاری ’ڈریس کوڈ‘ سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

خواتین کے لباس سے متعلق جس طرح کے ضوابط شیعہ اکثریتی آبادی والے اسلامی جمہوریہ ایران میں رائج ہیں، تقریباﹰ اسی طرح کے سخت قوانین ایک اور اسلامی ملک سعودی عرب میں بھی نافذ ہیں۔ ایران میں تو قانوناﹰ خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ہے لیکن سعودی عرب میں تو خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی نہیں ہے۔

Saudi Arabien Frauen

سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے لیکن کئی خواتین احتجاجاﹰ اس قانون کی خلاف ورزی کرتی نظر آتی ہیں

اے ایف پی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ایرانی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق لاریجانی نے ابھی اسی ہفتے کہا تھا، ’’بدقسمتی سے دارالحکومت تہران کی چند سڑکیں ایسی ہیں، جو (خواتین ڈرائیوروں کی وجہ سے) دیکھنے میں فیشن سیلون نظر آتی ہیں۔‘‘

ایران میں جون 2013ء میں، جب سے اعتدال پسند سیاستدان حسن روحانی ملکی صدر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں، ملک میں سیاسی اور سماجی شعبوں میں کئی اصلاحات تو دیکھنے میں آئی ہیں تاہم ملک کا بنیادی سیاسی ڈھانچہ اور اعلٰی سیاسی قیادت ابھی بھی انتہائی حد تک قدامت پسند ہیں۔

DW.COM