’نفسیاتی مریض‘ کوپھانسی دی جا سکتی ہے، پاکستانی سپریم کورٹ | حالات حاضرہ | DW | 21.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’نفسیاتی مریض‘ کوپھانسی دی جا سکتی ہے، پاکستانی سپریم کورٹ

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے اپنے ایک حکم نامے میں کہا ہے کہ اسکیزو فرینیا (اوہام کی بیماری) ذہنی امراض میں نہیں آتی، اس لیے اس کے شکار افراد کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔

اس طرح سپریم کورٹ میں سن 2001ء میں ایک مذہبی رہنما کے قتل کے جرم میں سزا پانے والے مگر اسکیزوفرینیا (Schizophrenia) میں مبتلا شخص کو سزائے موت دینے کی راہ ہم وار ہو گئی ہے۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ کوئی مستقل بیماری نہیں بلکہ قابل علاج مرض ہے۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کی۔ جمعے کے روز عدالتی کارروائی میں جمالی نے کہا کہ اسکیزوفرینیا کوئی مستقبل ذہنی مرض نہیں۔ ’’ یہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے۔ اس لیے یہ کسی بھی طرح پاگل پن کے زمرے میں نہیں آتی۔‘‘

پاکستانی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی بنیاد دو وجوہات پر کی۔ اس میں ایک لغت میں لفظ ’اسیکزوفرینیا‘ کی تعریف اور دوسرا سن 1988 کی بھارتی سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ ہے۔

امریکی سائیکالوجی ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کے مطابق اسیکزوفرینیا ایک ’سنجیدہ دماغی بیماری ہے، جو غیرمنطقی خیالات،  نادرست رویے اور گفت گو کی موجب‘ بنتی ہے۔

سپویم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان میں اس پچاس سالہ مجرم امداد علی کو سزائے موت دیے جانے کی راہ ہم وار ہو گئی ہے، جسے سن 2001ء میں قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سن 2012ء میں حکومتی ماہرین نفسیات نے اس مجرم کے اسکیزوفرینیا کی بیماری میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی تھی۔ اس مجرم کو 20 سمتبر کو پھانسی دی جانا تھا، تاہم طبی بنیاد پر داسر کی جانے والی اپیل کی وجہ سے اُس کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

دوسری جانب امداد علی کی سزائے موت پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔