1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نظر بندی کے بعد سوچی کا پہلا سیاسی دورہ

میانمار کی اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی نے نظربندی کے بعد پہلا سیاسی دورہ کیا ہے۔ اتوار کو وہ اپنی جماعت کے ارکان، صحافیوں اور سفارت کاروں کے ساتھ ینگون سے نکلیں۔

default

نوبل امن انعام یافتہ سوچی نے اتوار کو باگو میں عوامی ا‌جتماع سے خطاب میں اپنے ملک میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد ہی طاقت ہے، ہر جگہ اسی کی ضرورت ہے بالخصوص میانمار میں۔

سوچی کو گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے انتخابات کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ وہ تقریباً 15برس قید یا نظر بند رہیں جبکہ فوجی حکومت نے انہیں نومبر کے انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک رکھا تھا۔ ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے 1990ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم اقتدار کبھی ان کے حوالے نہیں کیا گیا۔

آنگ سان سوچی کو میانمار میں ’دی لیڈی‘ کہا جاتا ہے اور وہ آزادی کی ایک علامت سمجھی جاتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے سکیورٹی وجوہات پر کوئی دورہ کرنے سے خبردار کرنے کے باوجود اتوار کو وہ ینگون سے نکلیں۔

انہوں نے ینگون کے شمال میں اسّی کلومیٹر پر واقع باگو کے خطے میں مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سڑکوں پر سینکڑوں افراد ان کے استقبال کے لیے موجود تھے ان میں سے بیشتر نعرے لگا رہے تھے جبکہ انہوں نے چھوٹے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے، جن پر درج نعروں میں سوچی کو ماں مخاطب کرتے ہوئے ان کے لیے محبت کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس دوران پولیس نے سوچی کے حامیوں کو سڑکوں سے ہٹانے کی کوشش کی۔

Myanmar Aung San Suu Kyi

آنگ سان سوچی

چھیاسٹھ سالہ سوچی نے اس دورے کا آغاز باگو کے قصبے پگوڈا سے کیا۔ قبل ازیں انہوں نے اس کے قریبی علاقے تھا ناٹ پِن میں ایک لائبریری کا افتتاح بھی کیا۔ اسی جگہ انہوں نے تقریباﹰ چھ سو افراد کے اجتماع سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا: ’’ہم اس ملک کو ترقی کی منزل تک اسی وقت لے جا سکتے ہیں، جب ہم مل کر کام کریں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بیس سال پہلے جب انہوں نے سیاست میں قدم رکھا، اس وقت سے انہوں نے ہمیشہ تندہی سے کام کرنے کی کوشش کی اور جہاں تک ممکن ہوا وہ اپنی کوششیں آئندہ بھی جاری رکھیں گی۔

سوچی کے اس دورے میں ان کی این ایل ڈی جماعت کے ارکان، صحافی اور سفارت کار بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اس دورے پر روانگی سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں سوچی نے کہا کہ ان کا انحصار عوام کی حمایت پر ہے، جس کا ثبوت باگو میں دکھائی دے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM