1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

’نظروں، الفاظ اور حرکتوں سے ہراساں کیا جاتا ہے‘

دنیا بھر میں اہم خاتون شخصیات، فلمی ستارے اور عام خواتین ہیش ٹیگ ’می ٹو‘ استعمال کر کے جنسی طور پر ہراساں ہونے کی ذاتی کہانیوں کو سوشل میڈیا پر شیئر کر رہی ہیں۔

عالمی سطح پر اس مہم کا آغاز ہالی ووڈ کی نامور شخصیت ہاروی وائنسٹائن کے خلاف ان الزامات کے بعد ہوا جن کے مطابق انہوں نے کچھ دہائیوں قبل خواتین کو ریپ اور جنسی زیادتی کا شکار بنایا تھا۔ امریکی اداکارہ الیسا میلانو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ وہ تمام خواتین جو زندگی میں کبھی بھی جنسی زیادتی یا ہراس کا شکار ہوئی ہیں وہ ہیش ٹیگ ’می ٹو‘ استعمال کرکے سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے حوالے سے آگاہی پیدا کریں۔

پاکستان میں بھی خواتین کی بہت بڑی تعداد اس ہیش ٹیگ کو استعمال کر رہی ہے۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر ’می ٹو‘ ٹاپ ٹرینڈننگ ہیش ٹیگ بنا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کی ایک صارف حمیرہ کریم نے لکھا،’’ ہمیں مضبوط ہونا ہوگا۔ ہراساں کرنے والے کو شرمندہ ہونا چاہیے نا کہ متاثرہ عورت کو، بزدلی اور کمزوری مجرموں کو مزید طاقت دیتی ہے۔‘‘ سماجی کارکن اور حقوق نسواں کی علمبردار گلالئی اسماعیل نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا،’’ جب آپ پشاور میں رہتے ہوں تو ہراساں ہونا ایک عام سی بات ہے۔‘‘

عینی زمان نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا،’’ اگر ہر وہ عورت جو ہراساں ہوئی ہے ’می ٹو‘ ہیش ٹیگ لکھے تو اندازہ ہو کہ جنسی طور پر خواتین کو ہراساں کرنا کتنا بڑا مسئلہ ہے۔‘‘ صحافی فاریہ سحر نے لکھا،’’ میں  اتنی بہادر نہ تھی کہ جنسی طور ہر ہراساں کیے جانے کو رپورٹ کر سکتی، اس لیے ہمیں ان عورتوں پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے جو ہراساں ہونے کے کچھ عرصے بعد دنیا کو بتانا چاہتی ہے کہ انہیں ہراساں کیا گیا تھا۔‘‘

پاکستان میں ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جب عورتوں کو اس صورتحال میں شدید معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جب کئی برس جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد پاکستان پہنچی تھیں تو انہیں ایک دہشت گردانہ حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ کئی ٹی وی پروگرامز میں سیاست دانوں کی جانب سے خواتین تجزیہ کاروں یا سیاست دانوں کو توہین آمیز جملے بھی سننے کو ملتے رہتے ہیں۔

پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ خواتین شخصیات جیسے کہ شرمین عبید چنائے، ملالہ یوسف زئی، گلالئی اسماعیل اور نگہت داد کو اندرون ملک کچھ حلقوں کی جانب سے مغربی ایجنٹ ہونے جیسے الزامات کا سامنا  بھی کرنا پڑا ہے۔ کسی عورت سے اس کی زندگی ہی لے لینا ہراساں کیے جانے کی بدترین صورت کہلائی جاسکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان میں ایک ہزار سے زائد خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔

ہیش ٹیگ ’می ٹو‘ استعمال کرتے ہوئے سماجی کارکن نائمہ بٹ نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا،’’ حقیقت یہ ہے کہ عورت گلی اور سڑکوں پر ہراساں ہوتی ہے۔ طاقت کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے، نظروں اور الفاظ سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ پیچھا کیا جاتا ہے، الزامات لگائے جاتے ہیں یہاں تک کہ دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔‘‘

DW.COM