1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نظام کوغیر مستحکم نہیں کریں گے، نواز لیگ

پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ کے حکومت سے علیحدگی کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ وزیراعظم گیلانی کے خلاف جلد ہی تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی، تاہم فی الحال ایسی تحریک پیش کیے جانے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔

default

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف

ابھی تک صرف سنی سنائی بات ہی تھی، لیکن اب پاکستان مسلم لیگ نواز نے باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہےکہ وہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کریں گے۔ مسلم لیگ ’ن‘ کا مؤقف ہے کہ اگر وزیراعظم کو ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو صورتحال غیر مستحکم ہوگی، ملک جس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نواز لیگ کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے اخبار نویسوں کو بتایا ان کی جماعت اس قسم کا قدم اٹھا کر ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔ اس اعلان کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف خطرات فی الحال ٹل گئے ہیں۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے حکومت سے علیحدگی کے بعد قومی اسمبلی میں وزیراعظم گیلانی کے خلاف عدم اعتماد کے حوالےسے ووٹنگ کا امکان بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔

Pakistan Ahsan Iqbal

تحریک اعتماد پیش کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے، احسن اقبال

پاکستانی حکومت کو دہشت گردی، مہنگائی اور بدعنوانی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم ان مسائل پر قابو پانےکے لئے غیر مؤثر اورنامناسب اقدامات کی وجہ سے، وزیراعظم گیلانی کی ٹیم کو اندرون اور بیرون ملک شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور ایم کیو ایم نے بھی حکومتی کی نااہلی کو ہی اتحاد سے علیحدگی کی وجہ بتایا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے ترجمان احسن اقبال نے بھی گزشتہ شب کہا تھا کہ تحریک اعتماد پیش کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے لئے یہ ایک سوچنے کا مقام ہے کہ ایک جماعت، جو اکثریت کے ساتھ پارلیمنٹ میں آئی تھی، کتنی آسانی سے اقلیت بن بیٹھی ہے۔

پاکستان کا سیاسی بحران ایک ایسے وقت میں اپنے عروج پر پہنچا، جب امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ساتھ ہی عالمی مالیاتی فنڈ کا اسلام آباد سے اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس لاگو کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ سیاسی صورتحال ملکی معیشت پر بھی بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے کاروباری حجم میں 1.44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس