1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

نظام شمسی کی آخری حد، ایک چمکتی پٹی

جنرل سائنس میں شائع ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نظام شمسی کی حتمی حد اس نظام کے آخری سیارے پلوٹو سے آگے دکھائی دینے والی ایک چمکتی پٹی کی صورت میں ہے۔

default

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نظام شمسی کی حد پر یہ چکمتے ربن کی صورت میں دکھائی دینے والا روشنی کا دائرہ دراصل شمسی ہواؤں اور ہماری کہکشاں میں شامل دیگر ستاروں سے آنے والی شعاعوں کے تصادم کے باعث پیدا ہوتی ہے۔

نظام شمسی جس کہکشاں کا حصہ ہے، اسے مِلکی وے یا دودھیا راستہ کہتے ہیں۔ اس کہکشاں میں سورج کے علاوہ بھی ہزاروں، لاکھوں ستارے موجود ہیں اور وہ بھی اسی طرح خود سے وابستہ سیاروں کے ساتھ اپنے اپنے نظام لئے ہوئے ہیں۔ سولر ونڈز میں شامل ہائیڈروجن ایٹم جب کہشاں کے دوسرے نظاموں سے آنے والی ہواؤں سے ٹکراتے ہیں تو ان کے تصادم سے روشنی پیدا ہوتی ہے۔

نظام شمسی کی حد کی دریافت کے لئے انٹر سٹیلر باؤنڈری ایکسپلورر سپیس کرافٹ یا آئی بی ای ایکس استعمال کیا گیا۔ IBEX کی طاقتور دوربینوں سے حاصل ہونے والی تصاویر سے یہ بات سامنے آئی کہ نظام شمسی کی حد کا تعین ایک چمکتی پٹی کرتی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ استفادہ کیسینی نامی خلائی جہاز کی جانب سے بھیجی جانے والی تصاویر سے لیا گیا، کیسینی خلائی جہاز اس وقت نظام شمسی کے سیارے زحل کے قریب سے گزر رہا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان تصاویر کے بعد سولر سسٹم کی سرحد کے حوالے سے لگائے گئے اب تک کے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔

BdT Space Shuttle Raumfahrt

امریکہ سمیت کئی ممالک کے مشن کائنات کے رازوں سے واقفیت کے لئے کوشاں ہیں

ٹیکساس میں قائم ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سین انٹونیو کی اس تحقیق کی قیادت ڈاکٹر ڈیوڈ میک کومِس کر رہے ہیں۔ میک کومِس کے مطابق :’’آئی بی ای ایکس کے نتائج غیر معمولی ہیں۔ اس ان دیکھے مقام سے متعلق اب تک کے تمام نظریات کو آئی بی ای ایکس نے رد کردیا ہے۔‘‘

میک کومِس کا کہنا ہے کہ نظام شمسی کی یہ سرحد تقریباً دس ارب میل کے فاصلے پر ہے۔ میک کومَس کا مزید کہنا ہے کہ آئی بی ای ایکس سے ان نتائج کی توقع بھی نہیں کی جارہی تھی۔ انہوں نے کہا: ’’حالانکہ ان تصاویر میں دکھائی دینے والا ربن انتہائی پتلا ہے اور اس کی موٹائی آسمان میں دکھائی دینے والے اجسام کے مقابلے میں صرف دو یا تین گنا زیادہ ہے۔‘‘

جنرل سائنس جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے حوالے سے پانچ مخلتف رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ ربن ان ہائیڈروجن ایٹموں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، جو ایک مرتبہ چارج حاصل کر لیتے ہیں مگر اس کے بعد پھر نیوٹرل ہوجاتے ہیں۔

محققین نے کہا ہے کہ اسی ریسرچ کو آگے بڑھا کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ ہماری کہکشاں ’’ملکی وے‘‘ کس سمت میں متحرک ہے۔ اور کہکشاں آئندہ دس ہزار برسوں میں کیا فاصلے طے کرنے والی ہے!

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : گوہر نذیر