1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نصرت فتح علی خان کی یادگار قوالیاں

غزل اور قوالی کے بے تاج بادشاہ نصرت فتح علی خان کا نام دنیائے موسیقی میں ہمیشہ زندہ و پائندہ رہے گا۔ آج اس عظیم فنکار کے انہترویں یوم پیدائش کے موقع پر ایک بار پھر اُن کے چاہنے والے انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

نصرت فتح علی خان نے ایک مرتبہ ڈی ڈبلیو کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا،’’ میرے والد کی خواہش تھی کہ میں فن موسیقی سے آگہی تو ضرور حاصل کروں لیکن اس کو پیشے کے طور پر نہ اپناؤں، وہ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔‘‘

بھارت کے معروف فلم کہانی نویس اور نغمہ نگار جاوید اختر نے ان کی موت پر کچھ یوں خراج عقیدت پیش کیا تھا،’’ نصرت فتح علی خان کے ساتھ مجھے ایسا لگا کہ میں خدا کے قریب ہو گیا ہوں۔‘‘

برصغیر کی معروف گلوگارہ لتا منگیشکر نے ان کی وفات کے فوری بعد ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا،’’ میں یہ سمجھتی ہوں کہ نصرت صاحب کی موت سے دنیائے موسیقی کو بہت نقصان ہوا ہے۔ وہ اپنے ملک میں ہی نہیں ہمارے ہاں بھی بہت زیادہ مقبول تھے۔ نصرت صاحب نے ایک فلم کی موسیقی ترتیب بھی دی تھی جس کے گیت مجھے گانا تھے، لیکن میں کسی مصروفیت کی وجہ سے وہ گیت نہ گا سکی، جس کا مجھے عمر بھر افسوس رہے گا۔‘‘

استاد نصرت فتح علی کا خاصہ فن قوالی میں مشرق و مغرب کی موسیقی کا وہ ملاپ تھا جس پر اردو اور پنجابی زبانوں سے نا آشنا یورپ اور امریکا کے باشندے بھی پوری پوری رات سر دھنا کرتے تھے۔ ان کی وفات پر پیٹر گیبریل نے کہا،’’ نصرت فتح کی موت سے نہ صرف دنیا ایک غیر معمولی فنکار سے محروم ہو گئی بلکہ میں نے ایک بہت عزیز دوست بھی کھو دیا۔ میں نے کبھی کسی اور آواز میں اتنی روحانیت محسوس نہیں کی۔‘‘

نصرت فتح علی خان کی کچھ یادگار قوالیاں

  • سانوں اک پل چین نا آوے
  • تم اک گورکھ دھندا ہو
  • اللہ ہو
  • دل لگی
  • یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے

DW.COM